انوارالعلوم (جلد 8) — Page 501
۵۰۱ اس امر کا اعلان کیا گیا ہے کہ مولوی نعمت اﷲخان کو ارتداد کی وجہ سے سنگسار کیا جائے گا اور آخر میں کابل کے نیم سرکاری اخبار حقیقت کو وہ کہاں لے جائیں گے جس نے مقدمہ کی پوری کارروائی چھاپ دی ہے اور تسلیم کیا ہے کہ شہید مرحوم کے سنگسار کئے جانے کا باعث اس کا مذہب تھا۔اور پھر وہ اس تمام خط وکتابت کو کہاں چھپادیں گے جو کابل گورنمنٹ نے زور دیا ہے کہ ڈاکٹر فضل کریم کو لیگیشن (legation)سے واپس کردیا جائے کیونکہ وہ احمدی تھے یہ تمام واقعات بتا رہے ہیں کہ افغان گورنمنٹ مذہبی طور پر احمدیوں سے عداوت رکھتی ہے۔یا ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اس کو عداوت ہے اور یہ کہ مولوی نعمت اﷲخان کے قتل کی وجہ صرف ان کی احمدیت تھی۔افغان گورنمنٹ ہمدردی کی محتاج ہے: شہادت کے حالات کے متعلق میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا مگر میں مضمون کے ختم کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ باوجوداس لمبے عرصہ کے ظلم کے مَیں اپنے دل میں افغان گورنمنٹ اور اس کے حکام کے خلاف جذبات نفرت نہیں پاتا- اس کے فعل کو نہایت بُرا سمجھتا ہوں مگر میں اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اور وہ میری ہمدردی کی محتاج ہے- اگر کوئی شخص یا اشخاص اخلاقی طور پر اس حد تک گر جائیں کہ ان کے دل میں رحم اور شفقت کے طبعی جذبات بھی باقی نہ رہیں تو وہ یقینا ًان لوگوں سے جو صرف جسمانی دکھوں میں مبتلا ہیں ہماری ہمدردی کے زیادہ محتاج ہیں- میں نے آج تک کسی سے عداوت نہیں کی اور میں اپنے دل کو اس واقعہ کی بناء پر خراب کرنا نہیں چاہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے سچے متبع بھی اسی طریق کو اختیار کریں گے- میں کسی ایسی میٹنگ میں شامل نہیں ہوتا جو اظہار ِغیظ وغضب کی خاطر منعقد کی گئی ہو- میں جانتا ہوں کہ ظلم نہ ظلم سے مٹتے ہیں اور نہ عداوت سے- پس میں نہ ظلم کا مشورہ دوں گا اورنہ عداوت کے جذبات کو اپنے دل میں جگہ دوں گا- مٹنگ میں شمولیت ک اغراض میں صفائی سے کہتا ہوں کہ میری اغراض اس میٹنگ میں شمولیت سے یہ ہیں- اول: اس امر کا اظہار کہ امیر کے اس فعل کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے- یہ فعل اسلام کے بالکل بر خلاف ہے- اسلام کامل مذہبی آزادی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ حق اور باطل ظاہر امور ہیں پس کسی پر زبردستی کرنے کی کوئ وجہ نہیں- ہر شخص کے لئے تو اس کا اپنا دین ہے۔