انوارالعلوم (جلد 8) — Page 500
۵۰۰ ہیں- یہ تمام واقعات مجھے قادیان سے میرے نائب نے بذریعہ تار مختلف تاریخوں پر بھیجے ہیں اور ان کی معلومات کا ذریعہ کابل کے اخبارات ہیں جن میں سے اکثر واقعات لئے گئے ہیں- تین خون اے بہنو اور بھائیو! گویہ واقعہ اپنی ذات میں بھی نہایت افسوسناک ہے مگر یہ واقعہ منفرد نہیں ہے- یہ تیسرا خون ہے جو گورنمنٹ افغانستان نے صرف مذہبی اختلاف کی بنا پر کیا ہے- سب سے پہلے مولوی عبدالرحمن صاحب۳۷؎ کو امیر عبدالرحمن خان نے احمدیت کی بنا پر گلا گھونٹ کر مروادیا- پھر صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب ۳۹؎ کو جو خوست کے ایک بڑے رئیس تھے اور تیس ہزار آدمی ان کے مرید تھے اور علم میں ان کا ایسا پایہ تھا کہ امیر حبیب اﷲخان ۴۰؎ کی تاجپوشی کے موقع پر انہوں نے ہی اس کے سر پر تاج رکھا تھا- امیر حبیب اﷲخان نے سنگسار کروادیا۔اور باوجود اس عزت کے جو اُن کو حاصل تھی ان کو پہلے چار ماہ تک قید رکھا اور زمانہ قید میں طرح طرح کے دکھ دیئے لیکن جب انہوں نے اپنے عقائدکو ترک نہ کیا تو ان پر سنگساری کا فتویٰ دیا اور حکم دیا کہ ان کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈالی جائے اور پھر اس رسی سے گھسیٹ کر ان کو سنگسار کرنے کی جگہ تک لے جایا جائے- مسٹر مارٹن اپنی کتاب انڈر دی ایبسولیوٹ میں ان کی شہادت کا واقعہ لکھتے ہوئے اس امر پر خاص طور سے زور دیتے ہیں کہ ان کے قتل کا اصل سبب احمدیہ جماعت کی وہ تعلیم ہے کہ دین کی خاطر جہاد جائز نہیں ہے- امیر ڈرتا تھا کہ اگر یہ تعلیم پھیلی تو ہمارے ہاتھ سے وہ ہتھیار نکل جائے گا جو ہم ہمیشہ ہمیشہ ہمسایہ قوموں کے خلاف استعمال کیا کرتے ہیں- ۴۱؎ ایک بے تعلق آدمی کی یہ شہادت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے آدمی محض مذہب کی خاطر نہیں مارے جاتے بلکہ وہ اس لئے بھی قتل کئے جاتے ہیں کیونکہ وہ اس امر کی تعلیم دیتے ہیں کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے ہندوؤں مسیحیوں اور دوسرے مذہب والوں کو مارنا یا ان کے خلاف لڑنا درست نہیں- پس وہ اپنی خاطر جان نہیں دیتے بلکہ تمام بنی نوع انسان کی خاطر جان دیتے ہیں۔قتل کو پولیٹیکل رنگ دینے کی کوشش: مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ أفغان گورنمنٹ کے بعض سفیر اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس قتل کو پولیٹیکل رنگ دیں مگر وہ ان واقعات کو کہاں چھپا سکتے ہیں کہ اس قتل سے پہلے وہ دو ہمارے آدمی محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے قتل کرچکے ہیں اور مسٹر مارٹن ایک غیر جانبدار کی شہادت موجود ہے- پھر اس واقعہ کو وہ کہاں چھپا سکتے ہیں کہ کابل کے بازاروں میں اس