انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 318

۳۱۸ مذہبی تعلقات ایک اہم سوال تمدن میں مذ ہبی تعلقات کا ہے اس کے متعلق میں اس قد رکہنا چاہتاہوں کہ اسلام سب مذاہب سے زیادہ مذہبی رواداری کا قائل ہے (1) مثلاً اسلام حکم دیتا ہے کہ کسی مذہب کے بزرگوں کو گالیاں نہ دو۔(۲) اسلام اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ سب اقوام میں نبی گزرے ہیں پس سب مذاہب ابتداءً الله تعالی کی طرف سے ہی آئے ہیں اسی وجہ سے کسی مذہب کو بُکلی خراب نہیں کہا جاسکتا۔ٍ (۳) اسلام کہتا ہے کہ مذہب کے لئے جنگ جائز نہیں کیونکہ راستی اور جھوٹ میں امتیاز ہو چکا ہے۔اب وہی زندہ ہو گا جو سچائی سے زندہ ہوتا ہے اور وہی مرے گا جسے سچائی مارتی ہے یہ ایک غلط خیال ہے کہ اسلام دین کو تلوار سے پھیلانے کی اجازت دیتا ہے۔اسلام تو صاف طور پر کہتا ہے کہ ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور اس وقت تک لڑو جب تک وہ تم سے لڑتے ہیں۔کیا جو مذہب اس امر کی تعلیم دیتا ہے وہ تلوار کا مؤیّد کہلا سکتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے تلوار سے اسلام کو مٹانا چاہا خدا نے ان کو تلوار سے ہی مٹادیا اور دفاع کے طور پر تلوار چلانا ہر گز ناپسندیدہ نہیں ہو سکتا۔اگر اسلام تلوار سے پھیلا تھا وہ تلوار چلانے والے کہاں سے آئے تھے؟ اور جس مذہب نے اسے تلوار چلانے والے پیدا کر لئے تھے کہ جنہوں نے اپناسب کچھ قربان کر کے باوجود سارے ملک کی مخالفت کے اس کو دنیا میں قائم کر دیا اس مذہب کے لئےیہ کیا مشکل تھا کہ وہ دلائل کے زور سے دوسرے لوگوں سے بھی اپنی صداقت منوالیتا۔یہ الزام اس مذہب پر جس نے سب سے پہلے رواداری کی تعلیم دی ہے ایک سخت ظلم ہے اور خدا تعالی نے اسی وجہ سے مسیح موعود علیہ السلام کو بغیر تلوار کے دنیامیں بھیجا ہے کہ تا آپ کے ذریعہ سے اسلام کو دنیا میں پھیلا کر یہ ثابت کرے کہ اسلام اپنی صداقت کے ذریعہ سے پھیل سکتا ہے اور زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ دنیا دیکھ لے گی کہ وہ سچ مُچ پھیل گیا۔تمدن کے متعلق اس تعلیم کے بیان کرنے کے بعد جو اس زمانہ کے موعود کی معرفت ہمیں ملی ہے میں اس حصہ تعلیم کے بیان کرنے کی طرف توجہ کرتا ہوں جو حالات مابعد الموت کے متعلق اسلام نے دی ہے۔