انوارالعلوم (جلد 8) — Page 319
۳۱۹ سوال چہارم حالات مابعد اموت "جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے خدا تعالیٰ کی ہستی کے بعد اگ رکوئی سوال دنیا کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے تو وہ "حالات ما بعد الموت" ہیں اور واقع میں جو مذہب کہ ما بعد الموت کے حالات پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا وہ ایک جسم بے جان ہے۔اسلام نے اس مسئلہ پر خاص طور پر زور دیا ہے بلکہ اس قدر زور دیا ہے کہ دوسری اقوام نے اس کے اس اصرار کو بھی اس کے خلاف بطور حربہ کے استعمال کیا ہے۔مگر یہ مسئلہ جس قدر اہم ہے اسی قدر باریک اور قابل غور بھی ہے۔ہم کبھی ایسے مسائل کی تہہ کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ الہام کی روشنی ہمیں ان کی طرف ہدایت نہ دے کیونکہ جو اس دنیا میں ہے وہ اس دنیا کے حالات معلوم نہیں کر سکتا مگر اس ہستی کے ذریعہ سے جس کے لئے سب جگہیں یکساں ہیں یہ دنیا اور وہ دنیا ان کے علاوہ اور جس قدر دنیائیں ہیں سب اس کے لئے آئینہ ہیں کوئی چیز نہیں جو اس سے مخفی ہو۔پس وہی اس جگہ کا حال بتلا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس قدر لوگوں نے اپنی عقل سے ما بعد الموت حالات کو بیان کرنا چاہا ہے انہوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے او ردوسروں کو بھی ٹھوکر دی ہے۔کوئی تو بعث بعد الموت کے بالکل منکر ہو گئے ہیں، کوئی اسے بالکل اس دنیا کی طرح ایک دوسری دنیا خیال کرتے ہیں، کوئی اس کو مان کا ارواح کو انعام اور جزاء کے لئے واپس دنیا میں لاتے ہیں کوئی اور مختلف خیالات اس کے متعلق پیش کرتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق جو تعلیم دی ہے وہ ایسی عجیب اور ایسی جدید اور ایسی اعلیٰ ہے کہ یکدم عقل اس سے تسلی پاتی ہے اور فطرت اس کی سچائی کو قبول کرتی ہے اور قانون قدرت اس کی تصدیق کرتا ہے اور جن کو مشاہدہ نصیب ہو وہ اس کی حقیقت کو بعینہٖ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور یقین کا مرتبہ حاصل کرتے ہیں۔درحقیقت جس طرح مذہب کے دوسرے حصوں میں آپ کی تعلیمات نے جن کی بنیاد یقیناً قرآن کریم پر ہے ایک حیرت انگیز انکشاف پیدا کیا ہے اسی طرح اس حصہ میں بھی ایک پوشیدہ حقیقت کو آپ نے ظاہر کیا ہے اور ایک سربستہ راز کو کھول کر دنیا پر ایک عظیم الشان راز کھولا ہے۔مگر چونکہ اگلا عالم لوگوں کی نظر سے بالکل مخفی ہے مختصر تشریح اس کی حقیقت بیان کرنے کے لئے کافی نہیں اور لمبی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں اس لئے میں اس جگہ ایک مختصر خاکہ کھینچنے پر کفایت