انوارالعلوم (جلد 8) — Page 317
۳۱۷ یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہماری حکومت کی غلطی ہے تو ہم اس کو سمجھا دیں۔غرض ایک طرف غداری اور ایک طرف قومی تعصب جنگوں کا بہت بڑا موجب ہیں۔اور ان کا دور ہونا نہایت ضروری ہے۔دنیا جب تک اس گُر کو نہیں سمجھے گی کہ حب الوطنی اور حب الانسانیت کے دونوں جذبات ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔اسلام نے کیا چھوٹے سے فقرے میں اس مضمون کو ادا کر دیا ہے انصر اخاک ظالمًا او مظلومًا یعنی تو اپنے بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم مدد کر۔مظلوم کی اس طرح کہ اسے دوسروں کے ظلم سے بچا اور ظالم کی اس طرح کہ تُو اس کو ظلم کرنے سے بچا۔کیا لطیف پیرایہ میں حب الوطنی اور حب الانسانیت کے جذبات کو جمع کر دیا ہے۔جب کوئی شخص اپنے ہم قوموں کو دوسری قوموں پر ظلم کرنے اور ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتا ہے تو وہ حب الوطنی کے خلاف کام نہیں کرتا کیونکہ اس سے زیادہ حب الوطنی اور کیا ہو گی کہ اپنے ملک کے نام کو ظلم کے دھبہ سے بچائے اور پھر ساتھ ہی وہ حب الانسانیت کے فرض کو بھی ادا کر رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس حقیقت سے آشکار کرتا ہے کہ خود زندہ رہو اور دوسروں کو زندہ رہنے دو (3) تیسرا اخلاقی نقص یہ ہے کہ قومی برتری کا خیال بہت بڑھ گیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ (الحجرات:12) کوئی قوم دوسری قوم کو حقیر نہ سمجھے۔شاید وہ کل کو اس سے اچھی ہو جائے اور فرماتا ہے تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران:141) یہ دن ترقی و تنزل کے بدلتے رہتے ہیں ایک قوم جو ترقی کی طرف جا رہی ہو دوسری قوموں کو حقیر سمجھ کر فساد کا بیج نہ ڈالے کہ کل شاید اس کی باری آئے جسے آج حقیر سمجھا جا رہا ہے۔جب تک کہ لوگ اسلام کی تعلیم کے مطابق یہ نہیں سمجھیں گے کہ ہم سب ایک ہی جنس سے ہیں اور یہ کہ ترقی تنزل سب قوموں سے لگا ہوا ہے کوئی قوم شروع سے ایک ہی حالت پر نہیں چلی آئی اور نہ آئندہ چلے گی کبھی فساد دور نہ ہو گا۔لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ قوموں کو زیر و زبر کرنے والے آتش فشاں مادے دنیا سے ختم نہیں ہو گئے۔نیچر جس طرح پہلے کام کرتی چلی آئی ہے اب بھی کر رہی ہے پس جو قوم دوسری قوم سے حقارت کا معاملہ کرتی ہے وہ ظلم کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر چلاتی ہے۔"