انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 253

۲۵۳ تیسرا ذریعہ اسلام نے یہ اختیار کیا ہے کہ اخلاق نیک کے اختیار کرنے اور بد اخلاق کے ترک کرنے کی عقلی اور عملی وجوہ بیان کی ہیں تا کہ علم کامل ہو اور اخلاق کے حصول کی کوشش کے لئے سچا جوش پیدا ہو سکے اس کو بھی اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔چوتھا ذریعہ جو اسلام نے اخلاق کی درستی کے لئے تجویز کیا ہے وہ اس کے نقطۂ نگاہ کا بدلنا اور اس کی مایوسی کو امید سے بدلنا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی بدیاں انسان سے اس لئے سرزد ہوتی ہیں کہ اس کے ذہن میں یہ بات جم جاتی ہے کہ وہ گناہ سے بچ ہی نہیں سکتا۔جو قوم اس خیال کو اپنی نسل کے سامنے پیش کرتی ہے وہ اسے ہلاک کرتی ہے وہ اپنی آئندہ نسل کی دشمن ہے۔جب تک کوئی شخص یہ یقین نہیں رکھتا کہ وہ ایک مقصد کو حاصل کر سکتا ہے وہ اسکے لئے پوری کوشش نہیں کر سکتا۔جن قوموں میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ ہمارے باپ دادے سب کچھ دریافت کر چکے وہ قومیں ایجادیں نہیں کر سکتیں اور جس قوم میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ اس میں ترقی کا مادہ ہی نہیں وہ ترقی کی طرف قدم ہی نہیں اٹھا سکتی۔اسی طرح جن لوگوں کے ذہن میں یہ خیال مستحکم ہو کہ ہم کمزور ہیں اور اخلاق نیک حاصل نہیں کر سکتے اور بدیاں ہماری گُھٹّی مین پڑی ہوئی ہیں اور پیدائش سے ہمارے ساتھ ہیں ہم کبھی ان پر فتح نہیں پا سکتے وہ قوم گویا اپنے ہاتھوں سے خود ہلاک ہوئی۔رسول کریم ﷺ نے اس مسئلہ پر خوب زور دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ کبھی کسی شخص کو مایوس نہیں کرنا چاہئے چنانچہ آپ فرماتے ہیں اذا قال الرجل ھلک الناس فھو اھلکھم یعنی جب کوئی شخص کسی قوم کی نسبت کہتا ہے کہ وہ تو اب تباہ ہو گئی تو اس قوم کا ہلاک کرنے والا وہی ہے یعنی کوئی مادی مصیبت اور تباہی ایسی سخت نہیں جس قدر کہ کسی شخص کے دل میں اس خیال کا بیٹھ جانا کہ ترقی کا دروازہ اس کے لئے بند ہو گیا ہے اور وہ اب دوسروں کے سہارے پر جا پڑا ہے۔یہ کیسی عظیم الشان صداقت ہے اور کس قدر وسیع اثر رکھنے والی ہے۔خلاصہ یہ کہ طبیعت میں مایوسی اور ناامیدی انسان کو مقابلہ سے باز رکھتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان ناکام اور نامراد ہو جاتا ہے۔اسلام نے اس خیال کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا ہے اور اس طرح اخلاق میں ترقی کرنے کا راستہ انسان کے لئے کھول دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التين :5) یعنی ہم نے انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ نہایت ہی عمدہ اور قابل نشو و نما قوتوں کو لے کر دنیا میں آتا