انوارالعلوم (جلد 8) — Page 252
۲۵۲ چاہئے او ر بار بار ایسے نمونےآنے چاہئیں تاکہ تمام نسلوں کو ان کے اعمال پر ڈھالنے کا موقع ملے۔اسلام ان نمونوں کے بار بار آنے کا دعویٰ کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ(الأَعراف:36) اے لوگو جب تم میں سے میں رسول بھیجوں جو تمہیں میرے نشانات اور تائیدات سنائے تو جو شخص اس کو دیکھ کر تقویٰ حاصل کرے گا اور اس کے ساتھ مل کر دنیا میں اصلاح کرے گاا س پر نہ کوئی خوف ہو گا نہ غم۔اسی طرح ان نمونوں کے علاوہ ایک اور نمونے جو ان سے درجہ میں کم ہوتے ہیں مگر پھر بھی ایک پاک نمونہ ہوتے ہیں ان کی نسبت رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اسلام میں ہر صدی پر ایک ایسا نمونہ آتا رہے گا آپ فرماتے ہیں۔ان اللہ یبعث لھذہ الامۃ علٰی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے سر پر ایسے شخص بھیجتا رہے گا جو دین کو نیا کرتے رہیں گے یعنی جو تعلیمات باطل انسانوں کی طرف سے شامل ہوتی رہیں گی ان کو دور کرتے رہیں گے چنانچہ ایسے مجددین اسلام میں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور اس وقت جبکہ تاریکی بہت ہی بڑھ گئی ہے اسلام کی حفاظت اور رسول کریم ﷺ کے نمونے کے قیام کے لئے ایک نبی مبعوث ہوا ہے جس نے اپنے نمونہ سے ہزاروں لاکھوں کو زندہ کر دیا ہے۔اگر غور کیا جائے تو اصل میں یہی ذریعہ سب سے اعلیٰ اور اکمل ہے اور دوسرے ذرائع اس کے ممد اور معاون تو ہو سکتے ہیں مگر اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کا اثر قطعی اور یقینی ہے اور ان کے اثرات بوجہ اس کے کہ ان کو استعمال کرنے میں ایسے لوگوں کا دخل ہے جو خود کامل استاد نہیں غلطی کا احتمال ہے۔مگر چونکہ اس ذریعہ کا مہیا کرنا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے اسلام نے اور ذرائع بھی بیان کئے ہیں جن سے اعلیٰ اخلاق پیدا کئے جا سکتے ہیں اور برے اخلاق کو دو رکیا جا سکتا ہے ان میں سے بعض ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔دوسرا ذریعہ جو اسلام نے انسان کو اخلاق پر قائم کرنے کے لئے تجویز کیا ہے وہ یہ ہے کہ اخلاق کو ان کی حقیقی ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے جس کی وجہ سے اخلاق پر ہر طبقہ اور ہر درجہ کے لوگ عمل کر سکتے ہیں چونکہ اس امر کو بھی ایک حد تک تشریح سے بیان کیا جا چکا ہے اس لئے اس جگہ اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔