انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 254

۲۵۴ ہے اسی طرح فرماتا ہے وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا () فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (الشمس:8-9) یعنی ہم نفس انسانی کو بطور شہادت کے پیش کرتے ہیں اور اس کی اعلیٰ درجہ کی اور بے عیب پیدائش کو بھی جس میں یہ خاص خوبی پائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسے مادے پیدا کر دئیے ہیں کہ وہ بدی اور نیکی میں تمیز کرنے کی توفیق رکھتی ہے۔دیکھو کیسی اعلیٰ درجہ کی اور مطابق فطرت تعلیم ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ایک نہایت ہی پاکیزہ فطرت لے کر دنیا میں آتا ہے جو کس قدر بھی ملوث ہو جائے پھر بھی اس کی اصل پاک ہے اس لئے اگر وہ نیکی کی طرف متوجہ ہو تو یقیناً اپنے عیوب کو دور کرنے میں اور نیکی کے حصول میں کامیاب ہو سکتا ہے۔اس تعلیم سے اسلام نے انسان کا نقطہ نگاہ وہی بالکل بدل دیا ہے اور اس کی ہمت کو بلند کر دیا ہے۔اسلام کے سوا باقی مذاہب یا اس مسئلہ میں بالکل خاموش ہیں یا پھر انسان کو ایسے بوجھوں کے ساتھ اس دنیا میں پہنچاتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال کے بغیر انہی کے بوجھ سے ڈوب جاتا ہے۔مگر اخلاق کی درستی میں اگر کوئی تعلیم کامیاب ہو سکتی ہے تو وہی جو اسلام نے پیش کی ہے اسی تعلیم سے انسان کے دل سے مایوسی کا اثر دور ہوتا ہے اور یہی تعلیم اس کے حوصلے کو بڑھاتی ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک بے داغ فطرت لے کر آیا ہوں اور اس کو مجھے پاک رکھنا چاہئے نہ کہ ایک غلاظت آمیز طبیعت جس پر کچھ اور گند بھی لگ گیا تو کوئی پروا نہیں۔مگر یہ تعلیم بھی کافی نہ تھی۔پیدائش کا سوال ہی انسان کے راستہ میں روک نہیں ہے وہ پیدائش کےبعد عقل اور ہوش کے آنے تک کئی خلقتوں میں سے گذرتا ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ راستہ کی لالچوں اور رذیل خواہشوں سے اپنی پاک فطرت کو ملوث کر لیتا ہے اگر ایسے شخص کے لئے کوئی علاج مقرر نہیں ہے تو پھر بھی ایک معقول حصہ دنیا کا ایسا رہے گا جو نیکی سے محروم رہ جائے گا کیونکہ وہ خیال کر لے گا کہ جب ایک دفعہ ہمیں ناپاکی لگ گئی تو اب ہمیں پاکیزگی کے لئے کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پس جب تک یہ روک بھی دور نہ ہو مذہب اخلاق حسنہ کو قائم کرنے اور بدی کے مٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔اسلام دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس روک کو دور کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس روک کو بہترین طور پر دور کرتا ہے کیونکہ وہ ان خطاؤں کے اثر دورکرنے کے لئے جو انسان سے پہلی ہو چکی ہیں توبہ کا دروازہ کھولتا ہے جسے دوسرے مذاہب بند کرتے ہیں اور اسے مایوسی کے نیچے سے بالکل چھڑا لیتا ہے۔