انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 251

۲۵۱ اسی طرح اسلام نے تمام احکام کی علتیں بتائی ہیں اور لوگوں کے لئے اخلاق پر عمل کرنے کا دروازہ کھول دیا ہے مگر سب احکام کے متعلق تفصیلاً اس جگہ بیان کرنا ناممکن ہے یہی مثالیں کافی ہیں اور ان کے بیان کرنے کے بعد میں سوال چہارم کو لیتا ہوں۔اخلاق حسنہ کے حصول اور اخلاق سیئہ سے بچنے کے ذرائع یہ بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ مذہب کا صرف یہ ہی کام نہیں کہ وہ ان اخلاق کو بتائے جن سے انسان کو بچنا چاہئے یا جن اخلاق کو اسے اختیار کرنا چاہئے بلکہ اس کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ ایسے ذرائع مہیا کرے یا بتائے جن کی مدد سے انسان بد اخلاق کو چھوڑ سکے اور نیک اخلاق کو اختیار کر سکے کیونکہ بغیر اس مقصد کے حصول کے ہماری سب کوششیں رائیگاں جاتی ہیں اور ہماری تحقیق ادھوری رہ جاتی ہے۔دوسرے مذاہب کے لوگ اس سوال کا جو جواب دیں گے سو دیں گے میں اسلام یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ احمدیت کی طرف سے نہایت خوشی کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ اسلام نے اس غرض کو خوب عمدگی کے ساتھ پورا کیا ہے۔پہلا ذریعہ جو اسلام اخلاق کی درستی کے لئے تجویز کیا ہے وہ صفات الٰہیہ کا ظہور ہے جس کے بغیر انسان کامل اخلاق کو حاصل کر ہی نہیں سکتا کیونکہ انسان اپنے کاموں کی درستی کے لئے نمونہ کا محتاج ہے۔نمونہ کے ذریعہ سے وہ اچھی طرح سیکھ سکتا ہے خالی کتابی علم اس کو نفع نہیں دے سکتا۔اگر نمونے دنیا میں موجود نہ ہوں تو کُل علوم دنیا سے مفقود ہو جائیں۔کوئی شخص طب، انجینئرنگ، کیمسٹری وغیرہ علوم کو محض کتابوں سے نہیں سیکھ سکتا ایسے علم حاصل کرنے کے لئے ایسے نمونوں اور تشریح کرنے والے آدمیوں کی ضرورت ہے جن کو دیکھ کر یا جن سے پوچھ کر وہ ان علوم کی باریکیوں کو دریافت کرے۔جو حال باقی علوم کا ہے وہی اخلاق کا ہے اخلاق بھی انسان کامل طور پر نہیں سیکھ سکتا جب تک کامل نمونہ اس کے سامنے موجود نہ ہو اور جب تک ایسے نمونے بار بار پیدا نہ ہوتے رہیں اور یہ نمونے ہوں بھی انسانوں میں سے کیونکہ جو شخص انسانوں میں سے نہیں ہے وہ ہمارے لئے نمونہ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ انسان کا دل غیر انسان کے عمل پر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ایک درخت ایک پتھر کا کام نہیں کر سکتا۔کیونکہ انسان کا دل غیر انسان کے عمل پر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ایک درخت ایک پتھر کا کام نہیں کر سکتا۔اسی طرح ایک انسان ایک غیر انسان کے نمونہ سے ہمت اور جرأت نہیں حاصل کر سکتا۔پس ہمارا نمونہ انسانوں میں سے ہونا