انوارالعلوم (جلد 8) — Page 79
۷۹ ہمارے ما تھے اور تمہاری پیٹھیں زخمی ہیں ٍ اس کے مقابلے میں ہماری طرف دیکھو عورت مرزا صاحب پہلے ان جو کہا مصیبتوں کے پہاڑ گر پڑنے پر بھی نہ چھوڑا۔پھر ہم نے بھی جو راہ اختیار کی اس سے سرِمُوادھر ادھر نہ ہوئے۔ہجرت کے معاملہ میں ترک موالات کے معاملہ میں خلافت کے معاملہ میں تم نے شکست کھائی اور بری طرح کھائی۔اس مقابلہ میں تمہاری پیٹھیں زخمی ہیں کیونکہ تم پیٹھ دکھا کر بھاگے۔زخم تو ہمیں بھی لگے مگر ہمارے ماتھے اور سینے زخمی ہیں کیونکہ ہم ماتھے اور سینے پیش کرتے رہے اور دشمن ہمارے ماتھے پر زخم لگاتا رہا۔پھر کس منہ سے تم دعویٰ کرتے ہو کہ ہم سچے ہیں۔تمہارے پاس سچائی کی کونسی علامت ہے تمہارے پاس محمدﷺ کی کیا چیز باقی ہے۔کیا محمدﷺ کا علم تمہارے پاس ہے اگر ہے تو کیوں تم لوگوں کو وہ علوم اور وہ نکات نہیں معلوم ہوتے جو اس شخص کی جماعت کے ادنی ٰ ادنی ٰلوگوں کو معلوم ہوتے ہیں جو تمهارے نزدیک کافر اور دجال ہے۔محمد ﷺ نے اپنی امت میں جو روحانیت چھوڑی ہے وہ تم میں کہاں ہے کوئی ایک بھی ہے تم میں جو خدا کا کہلا سکے اور جسے دعویٰ ہو کہ خدا تعالی اس سے ہمکلام ہوتا ہے اگر کوئی ہے تو سامنے آئے۔لیکن ہماری چھوٹی سی جماعت میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ایسے آدمی ہیں کہ جن سے خد اتعالی نے کلام کیا۔مگر اے مردو! تم چالیس کروڑ میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے پھر وہ کیا چیز ہے جس پر تم اس قدر شور و شرمچاتے ہو۔کیا یہ حیض کے لوتھڑے نہیں ہیں جنہیں تم لئے پھرتے ہو۔حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ پر آنے والی ہر چیز کو خدا نے مٹایا تم نے ایک ایک چیز کو حضرت صاحب کے مقابلہ میں رکھا اور خدا نے اسے مٹا دیا۔ایک وقت تھا جب تم کہتے تھے اہل عرب نے مرزا صاحب کو نہیں مانا مقامات مقدسہ کے محافظوں نے قبول نہیں کیا ہم کس طرح مان لیں لیکن تمهارے مونہواں سے خدا نے حاکم مکہ و مد ینہ کو باغی اور غدار کہلا یا پھر تم نے کہاٹر کی حکومت جب تک قائم ہے امام مہدی نہیں پیدا ہو سکتا خدا نے اسے بھی پاش پاش کر دیا پھر تم نے گیا ترکوں کا خلیفہ اصل اسلامی خلیفہ ہے خدا نے اس کو بھی نکال دیا۔اب میں پوچھتا ہوں اور کیا اسلام سے کیا جائے کہ تم سمجھ سکو وہ مٹ گیا ہے کیا تمہارا یہ مطلب ہے کہ سارے کے سارے مسلمان کہلانے والے اپنے آپ کو مسلمان بھی نہ کہلائیں اور عیسائی ہو جائیں۔یا سارے جَنیو