انوارالعلوم (جلد 8) — Page 80
۸۰ پہن لیں۔اور کونسی مصیبت باقی ہے جس کی انتظار میں تم لوگ بیٹھے ہو کاش اب بھی تم لوگ سمجھتے اور خدا کے غضب کو اور نہ بھڑکاتے مگر افسوس ہے جسے خدا اندھا کرے اسے کوئی دکھا نہیں سکتا۔ہم کس مقام پر کھڑے ہیں خدا نے ہم کو اس مقام پر کھڑا نہیں کیا کہ ہم ان لوگوں کی دل آزاریوں اور تکلیف دہیوں سے گھبرا جائیں کیونکہ جیسا کہ ہمیشہ سے سنت ہے ضرور ہے کہ ان پر ہمیں ظاہری فتح بھی حاصل ہو جو فاتح قادیان کہلاتے ہیں اس وقت ان کی اولاد اسی طرح ان کے نام سے شرمائے گی جس طرح ابو جہل کی اولاد شرماتی تھی۔دنیا دیکھے گی کہ میری یہ بات میں جو کبھی اور چھاپی جائیں گی پوری ہو نگی اور ضرور پوری ہو نگی ان لوگوں کی نسلیں جو بعد میں آئیں گی وہ یہ کہنا پسند نہ کریں گی کہ محمد حسین یا ثناء اللہ کی اولاد ہیں وہ یہ کہنے سے شرمائیں گی ان کے نام سن کر ان کی گردنیں بھی ہو جائیں گی اور مرتضیٰ حسن جو سید کہلاتا ہے اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے گی اب وہی سید ہو گا جو حضرت مسیح موعود کی اِتباع میں داخل ہو گا اب پرانا رشتہ کام نہ آئے گا کہ ان رشتہ داروں نے اس کی ہتک کی۔مسلمان کہلا کر اسلام کے نام لیوا کہلا کر انہوں نے لیکچر دیئے کیا احمدی آریوں سے بھی بد تر ہیں پس خدا کی کتاب سے ان کی سیاست مٹائی گئی اور یہ ذلیل اور حقیر کئے گئے اور کئے جائیں گے اگر انہوں نے تو بہ نہ کی ان کے تمام دعویٰ باطل اور تمام خوشیاں ہیچ ہو جائیں گی کیا وہ اپنی اس وقت تک کی حالت پر نظر نہیں کرتے کسی امر میں بھی انہیں کامیابی اور خوشی نصیب ہوئی؟ ہرگز نہیں لیکن ان کے مقابلہ میں ہماری یہ حالت ہے اگر ہمیں ایک غم آیا تو خدا تعالی نے چار خوشیاں دکھائیں پس ہم انکی مخالفتوں اور شرارتوں سے گھبراتے ہیں کیوں کہ خداتعالی کی تائید ہمارے ساتھ ہے پس اے عزیزو! اور دوستو ! میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کے ہو کر خدا کے بن کر اسلام کی خد مت کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔تمہارے سامنے یہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم رکھ سکتے ہو کہ ایک نبی کا انکار اور مخالفت کرنے سے ان کی حالت کیا سے کیا ہو گئی ہے پس تم خدا کے لئے ہو جاو اور پھر نہ ڈرو جو کچھ ہوتا ہے ہو جائے کہ جو خدا کا ہو جاتا ہے پھر وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔(الفضل ۱۳۔۱۶ مئی ۱۹۲۴ء) ۴- أل عمران : ۵۶ ٣- البقرة : ۱۱۹ تفسیر بیضاوی جلد ۲ صفہ و تفسیر سورة انج زمر آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول۔۔۔الخ پیست : ۳۱ - الحج : ۳۶