انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 78

۷۸ ہو کہ مولوی ثناء اللہ یا مولوی مرتضیٰ حسن کے صحابیوں کا نمونہ ہیں۔یا کسی غیر کو جانے دو آپ ہی کھڑے ہو کر کہہ دو کہ تم لوگ رسول کریم ﷺکے صحابہ کا نمونہ ہو۔تمہارا منہ نہیں ہے کہ اپنے متعلق آپ بھی یہ کہہ سکو لیکن ہمارے متعلق ہمارے دشمن یہ کہہ رہے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کی صداقت پس میں پوچھتا ہوں آخر صداقت کا کوئی ثبوت بھی ہوا ہے کہ نہیں اگر ہوتا ہے تو جو بھی ہے وہ سارے کا سارا حضرت مرزا صاحب کے لئے موجود ہے۔حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اسلام زندہ ہوا، قرآن کریم زنده ہوا، محمدﷺ کا نام زندہ ہوا' خدا کی توحید زندہ ہوئی، ہرنیکی زندہ ہو ئی، ہرنبی زندہ ہوا، ہر راستباز نے دوبارہ حیات پائی پس حضرت مسیح موعود کوئی معمولی انسان نہ تھے آپ نے رسولوں اور ان کی تعلیموں کو زندہ کیا ہے۔پہلے مسیح نے تو بقول غیراحمدیاں چند ماچھیوں کو زندہ کیا تھا مگر اس نے نبیوں کو زندہ کیا ہے پھر بھی کہتے ہیں اس نے کیا کیا۔وہ کونسی خوبی اور وہ کونسی صداقت ہے جو کسی نبی میں پائی جاتی ہے مگر حضرت مرزا صاحب میں نہیں۔تم لوگ اعتراض کی زبان دراز کرتے ہو کرو مگر یہ تو بتاؤ تمہارا کو ن سا اعتراض ہے جو پہلے نبیوں پر نہیں پڑتا۔پھر تمہیں کس بات کا انتظار ہے سور ج چڑھ آياخد اکانبی آگیا، اسلام کو اس نے زندہ کیا ،اور دشمنوں نے مان لیا مگر اے محمد ﷺ کے نام لیوا ؤاور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والو ! کیا تمہیں اسلام کا زندہ ہو ناپسند نہیں آیا اور تم نے اسلام کی زندگی کے مقابلہ میں اپنے نفسوں کو موٹا کرنا ضروری سمجھا کاش تمہیں تمہاری مائیں نہ جَنتیں اور اگر جنتیں تو اس وقت سے قبل تم مرجاتے کہ تمہارے جسم او رنا پاک جسم اسلام کی طرف منسوب ہو کر باعث شرم بنتے۔مولویوں نے اسلام کو بدنام کیا اسلام کی ایک ایک بات کو لے کر تم نے اسے بدنام کیا اور غیروں کی نظروں میں حقیر ٹھہرایا ہے۔تم نے کہا ہندوستان سے ہجرت کر جانا قرآن کا حکم ہے لیکن اسے بے شرمو؟ پھر تم نے خودہی لوگوں کو کہا کہ ہجرت نہ کرو۔تم نے کہا انگریزوں سے ترکِ موالات کرنا اسلام کا علم ہے مگر اے بے شرمو !تم نے خود اس کی خلاف ورزی کی۔تم کہتے تھے خلافت ٹرکی کے بغیر اسلام زندہ نہیں رہ سکتا اور یہ اسلام کے لئے نہایت اہم اور ضروری چیز ہے لیکن اے بے حیاؤ ! کان سے پکڑ کر ایک خلیفہ کو نہیں بلکہ دو کو ملک سے نکال دیا گیا خلافت کا نام تک مٹا دیا گیا مگر تم نے اب تک نہ ہلائے۔