انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 323

۳۲۳ کسی اہل مذہب سے اس کے مذہب کا مسلّمہ اصل چھوڑنے کا مطالبہ نہ کرو چوتھی بات یہ ہے کہ مذہب کے لوگوں سے ان کا کوئی مسلّمہ مذہبی اصل نہ چُھڑایا جائے۔اب ہندو مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ گائے کا گوشت کھانا چھوڑ دو مگر سوال یہ ہے کہ گائے اگر متبرک ہے تو ہندوؤں کے نزدیک ہے مسلمان اس کا گوشت کھانا کیوں چھوڑ دیں۔جب اسلام ان کو اس کی اجازت دیتا ہے یہ مطالبہ قطعاً جائز نہیں ہے۔ایسی حالت میں اسلام کی تعلیم دیکھو مسلمانوں نے کفار سے ایک معاہدہ لکھایا جس میں آنحضرت ﷺ کے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ لکھا کفار نے اس پر اعتراض کیا کہ ہم تو ان کو رسول اللہ نہیں مانتے اس لئے یہ الفاظ نہیں ہونے چاہئیں۔جب یہ بات رسول کریم ﷺکے سامنے پیش ہوئی تو آپ نے فرمایا ہے یہ الفاظ کاٹ دو، حالا نکہ صحابہ کو ایسا کرنا گوارا نہ تھا۔اسی طرح ایک صحابی کہتے ہیں میں نے ایک یہودی کو یہ کہتے سنا کہ خدا نے موسیٰ کوسب پر فضیلت دی ہے یہ سن کر مجھے غصہ آگیا اور میں نے اسے مارا۔جب رسول کریم ﷺکو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا تم نے کیوں اسے مارا وہ تو اپنا عقیدہ بیان کر رہا تھا۸۔پس ہم مسلمان تیار ہیں کہ ہندوؤں سے کوئی ایسی بات نہ چھڑائیں جو ان کے عقیدہ میں داخل ہواسی طرح ہندوؤں کو چاہئے کہ ہم سے کوئی ایسی بات نہ چُھڑائیں جو ہمارے لئے جائز ہو ورنہ دیکھو کس طرح مشکل پیش آسکتی ہے۔کل کوئی ایسا فرقہ نکل آئے جو کہے کہ بکرے کی عظمت کرو تو کیا ہم اس کا گوشت کھانا بھی ترک کردیں گے ؟اسی طرح ایک ایسا فرقہ نکل آئے جو کہے کہ گائے کا دودھ پینا چھوڑ دو کیونکہ اس سے بچہ کو تکلیف ہوتی ہے تو کیا ہم دودھ پینا بھی چھوڑ دیں گے؟ در حقیقت یہ طریق ہی غلط ہے۔کسی مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں کو اپنے اصول کے پابند نہ کریں ورنہ اتحاد نہیں ہو سکتا۔اس طرح تو ہو سکتا ہے کہ کل کو ہندو یہ بھی کہدیں کہ ہندوستان چونکہ ہمارا متبرک ملک ہے اس لئے مسلمان اس سے نکل جائیں اور یہ بات یو نہی نہیں کہی گئی بلکہ خطرہ ہے کہ ہندو کسی وقت یہ کہدیں گے کیونکہ ستیارتھ پرکاصفحہ ۵۹ ایڈیشن چہارم میں لکھا ہے۔’’ جوشخص وید اور عابد لوگوں کے مطابق بنائی ہوئی کتابوں کی بے عزتی کرتا ہے اس وید