انوارالعلوم (جلد 7) — Page 324
۳۲۴ کی برائی کرنے والے منکر کوذات، جماعت اور ملک سے نکال دینا چاہئ‘‘۔۔اس تعلیم کے مطابق ممکن ہے کل ہندو کہدیں کہ ویدوں کی تعلیم کو مان لو ورنہ یہ ملک چھوڑ دو پس کہاں تک کوئی ان کی باتیں مانتا جائے گا۔بہتر یہی ہے کہ مسلمان پہلے قدم پر ہی کھڑے ہو جائیں اور فیصلہ کر لیں۔وہ مسلمان جنہوں نے گائے کی قربانی ترک کرنے کی تحریک کرتے وقت اس قسم کی غلطی کی تھی وہ اب زور دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو خوب قربانی کرنی چاہئے مگریہ بھی ان کی غلطی ہے کیونکہ ہندوؤں سے ضد کی وجہ سے یہ کہہ رہے ہیں اس لئے میں نے گذشتہ عیدالضحیٰ کے موقع پر اعلان کر دیا تھا کہ پہلے جو مسلمان گائے کی قربانی کرتے تھے وہ بھی اپ کے نہ کریں تا ہندو یہ نہ کہیں کہ ہمارا دل دکھانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔تو کسی مذہب کے لوگوں سے اس کا مذہبی اصل چھڑانے کی قطعا ًکوشش نہیں کرنی چاہئے۔ہر دوسری قوم کے حقوق کا احترام کرے اسی طرح دنیاوی امور کے متعلق اتحاد کی بعض شرطیں ہیں۔مثلاً یہ کہ ہر قوم دوسری قوم کے حقوق تسلیم کرے۔عجیب بات ہے کہ ہندو یہ تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو سوراج لے کر دیں گے مگر مسلمانوں کو ان کے چھوٹے چھوٹے حقوق نہیں دینا چاہتے۔پھر کس طرح مان لیا جائے کہ جب کالجوں میں داخلہ میونسپلٹیوں میں ممبری اور ملازمتوں میں ضروری حقوق نہیں دیتے تو سوراج دیں گے۔جو ایک روپیہ نہیں دے سکتا اس سے یہ توقع کیونکر ہو سکتی ہے کہ ہیرے دیدے گا۔پس یہ ضروری امر ہے کہ ہر ایک قوم کے حقوق تسلیم کئے جائیں۔میرے نزدیک مسلم لیگ اور کانگریس نے ہندو مسلمانوں کے حقوق کے متعلق جو سمجھو تہ کیا تھا وہ بھی ٹھیک نہ تھا۔جہاں مسلمانوں کی آبادی کم ہے وہاں تو ان کو کم حقوق دیئے گئے ہیں لیکن جہاں ان کی آبادی زیادہ ہے وہاں بھی آبادی کے لحاظ سے حقوق نہیں دیئے گئے اس لئے سب سے ضروری بات حقوق کی صحیح تعیین ہے۔مجرموں کو بِلالحاظ فرقہ مجرم قرار دو دوسری ضروری بات یہ ہے کہ اگر کہیں ہندو مسلمان میں جھگڑا ہوتوجوفریق قصور وار ہو اور جس کی زیادتی ہو اس کو پکڑا جائے تب تک کسی قوم سے صلح نہیں ہو سکتی جب تک قوم مجرم قرار نہ دے۔اب یہ ہوتا ہے کہ اگر میں مسلمانوں کی غلطی ہوئی ہے تو مسلمان ان کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر ہندو غلطی کرتے ہیں تو ہندو ان کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔مثلاً اگر