انوارالعلوم (جلد 7) — Page 322
۳۲۲ اگر خدا اور رسول کے متعلق اس قسم کی بدزبانی جاری رکھی جائے گی تو مسلمان قطعا ًاتحاد نہیں کر سکیں گے۔اب تو یہ حالت ہے کہ اسلام اور پانی اسلام کے متعلق اس قدر گالیاں دی جاتی اور اتنی بد زبانی کی جاتی ہے کہ ایسی ایک ماہ کی گالیوں کو جمع کرنے سے ایک سوصفحے کا رسالہ تیار ہوسکتا ہے اسی حالت میں کس طرح امید ہو سکتی ہے کہ اتحاد ہو جائے گا۔اسلام کی تو یہ تعلیم ہے کہ وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍؕکہ ان بتوں وغیرہ کو گالیاں نہ دو جن کو مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں اگر ان کو گالیاں دوگے تو وہ بھی اللہ کو گالیاں دیں گے۔دیکھو یہ کیسی مصلح اور اتحاد کی تعلیم ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو کیسا اعلیٰ اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔دوسرے مذاہب پر اعتراضات کے اصول اس شرط کی آگے دو شقیں ہیں ایک تو یہ کہ مسلّمہ اصول پر اعتراض نہ کئے جائیں۔قرآن کریم کی تعلیم ہے۔وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ-قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًاۚ میں ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کبھی خدا کا کلام نازل نہیں ہو اگر وہ یہ تو دیکھیں کہ موسیٰ پر توریت نازل ہوئی تھی گویا وہ اپنے مسلمہ اصل پر اعتراض کرتے تھے جس سے خداتعالی ٰنے روکا ہے۔دوسری شق یہ ہے کہ قصے کہانیوں کی بناء پر اعتراض نہ کئے جائیں بلکہ اس مذہب کے مسلّمہ اصول پر اعتراض کریں۔اس امر کو بھی قرآن کریم نے پیش کیا ہے فرماتا ہے وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًاہم نے رسول مبشر اور مندر بنا کر بھیجے ان کا جو لوگ انکار کرتے وہ جھوٹ بول کر کرتے تاکہ دوسرے لوگ ان کو قبول نہ کریں۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کہتاہے سچا اعتراض بے شک کرو مگر جھوٹ نہ بولو۔پس اگر ایسا طریق اختیار کیا جائے کہ جو بات کسی مذہب کے مسلمہ اصول میں نہ پائی جائے اس پر اعتراض نہ کیا جائے اور جو پائی جائے اس پر اعتراض ہو تو بہت کچھ امن کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔