انوارالعلوم (جلد 6) — Page 490
نام کے سنتے ہی چوکس ہوجانے اور آپؑ کے سلسلہ کو شک کی نگاہوں سےدیکھنے پر مجبور تھی۔مگر آپؑنے کسی کی پرواہ نہیں کی اور خدا نے جو کچھ بتایا تھا اس کا اعلان شروع کردیا اور لوگوں کو خدا کی طرف بلانا شروع کردیا اوربڑے زور سے تمام اقوام کو خدا کی بادشاہت میں داخل ہونے کی دعوت دینی شروع کی۔اور تحریروں اور تقریروں کےذریعہ سے آپؑنے دُنیا کو جو نصیحت کرنی شروع کی اس کا ماحصل یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ مذہب جس سے اس وقت نجات وابستہ ہے اسلامی ہی ہے اور اس کا آخری کلام جس کےذریعے سے انسان خدا تعالیٰ سے مل سکتا ہے قرآن کریم ہی ہے اور اس کا آخری رسول جو شریعت لے کر آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔مجھے اس نے جو سب دُنیا کا پیدا کرنے والا اورسب جہانوں کا مالک ہے اس غرض کے لئے بھیجا ہے کہ میں دُنیا کو جو خدا اور اس کے کلام اور اس کے رسولؐسے منہ موڑ چکی تھی ان کی طر ف پھیر کرلائوں اور قوموں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاؤں اور اس کی پر امن حکومت میں داخل کروں اور وہ جو اس سے جدا ہوگئے تھے ان کو اس سے لاکر ملائوں اوربے ایمانوں کو ایمان دوں اور اندھوں کو آنکھیں بخشوں اور بہروں کو کان دوں اور وہ جن کے جسم برص سے بد نما ہیں ان کو چنگا کروں اور مُروں کو زندہ کروں اور غافلوں کو ہوشیار کروں اور سوتوں کو جگائوں اور روٹھے ہوئوں کو منائوں اور بگڑے ہوئوں کو سنواروں اورگرے ہوؤں کو اُٹھاؤں اور جن کا کوئی والی اور وارث نہیں ان کی خبر گیری کروں اورجن کو خدا کی بادشاہت سے دھتکاراگیا تھا ان کے لئے اس کے دروازے کھولوں اوران کے حق ان کی دلوائوں اوراس نے اس دن سے بڑے زور سے منادی کرنی شروع کردی کہ اے لوگو! جو خواہ کسی مذہب کے ہو تمہارے لئے خدا کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں تم خدا کو ایک مانو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو اختیار کرو تو تمہارے لئے آسمان سے برکتیں نازل ہوں گی اور زمین سے افزونی ہوگی اور اے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو مت خیال کرو کہ تم مسلمان کہلا کر خدا کو کوش کرلو گے۔خدا تعالیٰ منہ کی باتوں سے خوش نہیں ہوتا بلکہ دل کے اعمال سے اور جو ارح کی تصدیق سے۔تم اپنے خیالات کو درست کرو اوراپنے اعمال کی نگہبانی کرو کیونکہ یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں بندہ کو عزت دیتی ہیں یہ مت خیال کرو کہ ہم خدا کے پیارے ہیں وہ ہمیں سزا نہیں دے گا بلکہ ہمارے دشمن کو مارے گا وہ تمہارے دشمن سے پہلے تمہیں مارے اوراس کو جہنّم میں گرانے سے پہلے تم کو گرائے گا کیونکہ وہ اس کی تعلیم سےناواقف تھا اور تم واقف تھے اور وہ اندھیرے میں ہونے کے سبب حق اور باطل میں فرق نہیں کرسکتا تھا اور تم کرسکتے تھے۔