انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 489

پر ظاہر کیا کہ اب ہم تجھ سے ایک اور رنگ میں کام لینا چاہتے ہیں اور تُو مسلمانوں کی روحانی حالت کی درستی کی طرف توجہ کر۔پھر آپ نے اس بات کیلئے اعلان کیا کہ جو لوگ خدا کیلئے آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں بیعت کریں۔اسوقت سے آپ کی مخالفت ہونی شروع ہوگئی اور اسلام کی تائید کی وجہ سے مسیحی اور ہندو تو پہلے سے ہی مخالف تھے اب مسلمان بھی مخالفت پر آمادہ ہوگئے اور وقت کے علماءنے جو فقیہوں اور فریسیوں کے جانشین تھے اس امر کو پسند نہ کیا کہ لوگ ہماری اطاعت سے نکل کر اسکے ساتھ مل جاویں۔کیونکہ وہ لوگ جانتے تھے کہ اسکے ساتھ مل کر انسان انسانی روایتوں کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور صرف خدا کی حکومت اسکے دل پر باقی رہ جاتی ہے۔آپ خاموشی سے اپنا کام کرتے چلے گئے مگر ابھی تک آپ پر اللہ تعالیٰ نے پوری طرح نہ کھولا تھا کہ آپؑخدا کی نظروں میں کیا ہیں؟ جس طرح کہ مسیح اوّل پھر بھی اپنی بعثت کے ابتدائی ایّام میں نہ کھلا تھا کہ خدا نے اسے مسیحؑبنا کر بھیجا ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ اس نے اپنی بعثت کے دوسرے سال حواریوں سے سوال کیا کہ لوگ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟ اورجب انہوں نے کہا کہ بعض الیاس ،بعض یوحنا ،بعض یرمیاہ اوربعض نبیوںؑمیں سے کوئی۔پھر اس نے پوچھا کہ تم مجھے کیا سمجھتے ہو؟ تو اس پر شمعون نے جواب دیا کہ تُو مسیحؑہے اس پر مسیح نے کہا کہ تجھ پر خود خدا نے یہ راز کھولا ہے اور کہا کہ مگر ابھی ’’کسُو سے نہ کہنا کہ مَیں یسوع مسیح ؑہوں۔‘‘ (متی باب ۱۶ آیت ۲۰) اسی طرح مسیحؑ ثانی سے ہوا کہ پہلے دو سال تک اس کو معلوم نہ ہوا کہ وہی مسیحؑ ہےمگر آخر ۱۸۹۰ء کے آخر میں وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتہ نازل ہوا اور اسنے حقیقت آپؑ پر کھول دی جس کے ماحصل یہ تھا کہ تُو ہی وہ مسیح ابن مریمؑ ہے جسکی نسبت پہلے نوشتوں میں خبر دی گئی تھی کہ وہ دنیا کی ہدایت کیلئے آنیوالا ہے اور پہلا مسیح باقی نبیوں کی طرح عمر پاکر فوت ہوا اور اپنے باپ سے جو آسمان پر ہے اپنے باقی بھائیوں کی طرح جو اس سے پہلے گزرچکے تھے جا ملا اوریہ جو کہا گیا تھا کہ وہ دوبارہ دنیا میں آئیگا اس سے یہی مراد تھی کہ اسکے نام سے ایک شخص آئے گا جو اس کی طبیعت اور اس کی قوت سے کام کرےگا۔جس وقت آپ نے اس امر کا اعلان کیا تمام ہندوستان میں ایک سرے سے دوسرے سر ے تک مخالفت کا ایسا جوش امنڈ آیا کہ اسکی نظیر بہت ہی کم ملتی ہے۔مسیحیوں کی طرف سے بھی سخت مخالفت شروع ہوگئی اور مسلمانوں کی طرف سے بھی اور گورنمنٹ بھی شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگی کیونکہ آپؑ کا دعویٰ مہدی ہونے کا بھی تھا اور مہدی کے نام کے ساتھ اس قدر روایات خونریزی کی وابستہ ہیں کہ گورنمنٹ اس