انوارالعلوم (جلد 6) — Page 425
حاصل کرتی چلی جائے گی۔غرض خدا تعالیٰ نے یہ طریق رکھا ہے کہ رئویت کے نتیجہ میں خوبصورتی حاصل ہوتی ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب خدا کی لوگوں پر تجلی ہوگی اور وہ واپس گھر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ تمہاری شکلیں کیسے بدل گئیں؟ وہ کہیں گے ہم حقدار تھے کہ ہماری شکلیں بدل کر خوبصورت ہوجائیں کیونکہ ہم نے خدا کو دیکھا ہے۔تو جن کو رؤیت الٰہی حاصل ہوتی ہے ان کی روحیں بدلتی جاتی ہیں اسی دنیا میں دیکھ لو جن کو خدا کی رؤیت ہوتی ہے ان کی روحیں کیسی اعلیٰ اور اور ہی طرح کی ہوجاتی ہیں اور نہ صرف ان کی روحیں اعلیٰ ہوجاتی ہیں بلکہ ان کے جسم پر بھی نور برستا اوران کی نیکی ظاہر ہوتی ہے۔خدا کی شکل اختیار کرنا شاید بعض کے دل میں خیال پیدا ہو کہ رؤیت الٰہی کی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ خدا کی صفات متثمل ہو کر نظر آتی ہیں پس اصل چیز تو نہ دیکھی گئی پھر دیدار کے کیا معنے ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی رؤیت بھی وہمی رؤیت نہیں ہوتی بلکہ حقیقی رؤیت ہوتی ہے اس لئے کہ غیر محدود ذات کی رؤیت اسی طرح ہوسکتی ہے اصل غرض تو نتائج سے ہے اور رؤیت کے جو نتائج ہوا کرتے ہیں وہ اسی قسم کی رؤیت سے پورے ہوجاتے ہیں۔اس کی مثال سورج کی سی ہے جسے آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا شاید بعض لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے؟ مگر حقیقت یہی ہے کہ اصل سورج کو کسی نے نہیں دیکھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح اور چیزوں کی رفتار پر وقت لگتا ہے اسی طرح روشنی کی رفتار پر بھی وقت لگتا ہے جس کا اندازہ فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا ہے۔چونکہ سورج دنیا سے نوکر وڑ میل کے فاصلہ پر ہے اس لئے سورج کی روشنی دُنیا میں آٹھ منٹ کے قریب میں پہنچتی ہے اور چونکہ زمین چکر کھارہی ہے اس لئے جس وقت سورج کی روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے اس وقت تک سورج اس جگہ سے آٹھ منٹ پہلے کی شعاعیں ہوتی ہیں اور جس جگہ سورج کو دیکھتے ہیں درحقیقت وہ وہاں بھی نہیں بلکہ اس سے قریباً سوا سو میل آگے ہوتا ہے کیونکہ اس عرصہ میں زمین سوا سو میل کے قریب چکر کھا چکی ہوتی ہے۔اسی طرح جب ہم دیکھتے ہیں کہ سورج ڈوب رہا ہے تو اس سے سات منٹ پہلے سورج ڈوب