انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 426

چکا ہوتا ہے ہم اس عرصہ میں اس کے آٹھ منٹ پہلے کی شعاعیں دیکھتےرہتے ہیں جسے وہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور ہم انہیں سُورج سمجھتے ہیں۔پس کبھی حقیقی سورج کسی نے نہیں دیکھا اس کی شعائیں آتی ہیں جو ایک ٹکی بناتی ہیں اورا تنے عرصہ میں سُورج آگے نکل چکا ہوتا ہے اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ حقیقی سورج کبھی کسی نے نہیں دیکھا اس لئے رؤیت کا کوئی فائدہ نہیں۔باوجود اس کے کہ سورج ڈوب چکا ہوتا ہے۔مگر اس کی پیچھے چھوڑی ہوئی شعاعیں ہمیں روشنی دیتی ہیں اور ہم ان سے وہی فائدہ اُٹھاتے ہیں جو سورج سے۔اسی طرح گو خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا کیونکہ اس کی ذات غیر محدود ہے مگر ہم اس کی صفات کے تمثلات کو دیکھ کر ویسا ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں جو کسی ذات کے دیکھنے سے ہوا کرتا ہے سوائے شکل کی حد بندی کے اور خدا تعالیٰ شکل سے پاک ہے اس لئے اس کا کوئی نقصان نہیں۔جب ہم ایسی محدود ذاتوں کا نظارہ بھی جو کہ بڑی ہوتی ہیں تمثلی طور پر ہی کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی غیر محدود ذات کا نظارہ حقیقی طور سے کس طرح کرسکتے ہیں؟ چنانچہ سورج کو دیکھو وہ پچیس لاکھ میل لمبا چوڑا ہے لیکن ہمیں وہ بہت چھوٹا نظر آتا ہے کیونکہ ہماری آنکھ اس قدر برے جسم کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی ہمیں وہ صرف ایک ٹکیا کے برابر نظر آتا ہے کیونکہ اس کے بعد کی وجہ سے انتا ہی عکس ہماری آنکھ پر پڑتا ہے اور اس بات کو پرانے زمانے کے دیہاتی لوگ بھی جانتے تھے کہ سورج اس سے بڑا ہے جس قدر کہ ہمیں نظر آتا ہے۔چنانچہ ان میں ایک مثل تھی کہ ’’ تاراکھاری چند گھماں۔سورج دا کچھ اوڑک ناں ‘‘۔یعنی ستارے ایک بڑے ٹوکرے کے برابر ہوتے ہیں اور چاند دو بیگھےزمین کے برابر اور سورج اتنا بڑا ہے کہ اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا۔گو یہ اندازہ غلط ہے مگر ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانہ کا زمیندار طبقہ بھی اس امر کو سمجھتا تھا کہ دور کی چیزیں اوربڑی چیزیں اپنے فوکس اور ہماری آنکھ کے اندازہ کے مطابق ہی نظر آتی ہیں مگر باوجود اس کے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سورج کا دیکھنا غیر حقیقی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں یہی حال رؤیت الٰہی کا ہے۔رؤیت الٰہی کا دوسرا فائدہ دوسرا فائدہ رؤیت الٰہی کا یہ ہوتا ہے کہ جو صفت سامنے آتی ہے اس سے قلب میں تغیر پیدا ہوتا ہے۔تعجب ہے خدا کے متعلق تو لوگ کہتے ہیں کہ اس کی رئویت کا کیا فائدہ ؟ لیکن اگر ان کا کوئی عزیز جدا ہونے لگے تو اس کی تصویر اتر والیتے ہیں یا اگر کوئی مرا ہوا بچہ یا رشتہ دار خواب میں نظر آئے تو بہت ہی خوش ہوتے اور اس نظارے سے متأثر بھی ہوتے ہیں۔اگر ان باتوں سے فائدہ ہوتا ہے