انوارالعلوم (جلد 6) — Page 424
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مدارج کے لحاظ سے مختلف رؤیتیں حاصل ہوتی ہیں اور جتنی روحانی طاقت زیادہ انسان یہاں پیدا کرے گا اتنی ہی جلدی وہاں رؤیت میں ترقی ہوگی اور کم از کم ایک ہفتہ کے اندر اس کی گویا نئی پیدائش ہوگی۔اس کی روح اتنی ترقی کرے گی کہ نئی بن جائے گی اور اعلیٰ درجہ کے مؤمن تو بارہ بارہ گھنٹے میں ترقی کریں گے۔دیکھو خدا تعالیٰ کے انبیاء ؑکیسے لطیف اشارات سے استدلال کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مؤمن کو صبح بھی تجلی ہوگی اور شام کو بھی۔اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس قد ر وسیع تھا اور آپؐکی نظر کہاں سے کہاں پہنچتی تھی ایک حدیث میں آتا ہے کہ اگر تم خدا کی رئویت چاہتے ہو تو صبح اور عصر کی نماز کی خوب پابندی کرو۔٭ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استدلال کیا ہے کہ ان نمازوں کی وجہ سے ہی تجلی ہوگی کیونکہ خدا فعل پر نتیجہ مرتب کرتا ہے صبح کی نماز کے فعل پر صبح کی رؤیت اور عصر کی نماز کے فعل پر پچھلے پہر کی رؤیت ہوگی۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صبح اور عصر کی نمازوں کی خوب پابندی کرو اس کے یہ معنی نہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نمازوں کا خاص حکم دیا ہے اس لئے باقی چھوڑی بھی جاسکتی ہیں۔ان نمازوں کے متعلق تاکید کرنے سے صرف یہ مراد ہے کہ چونکہ ان دونوں اوقات میں انسان کے پچھلے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے ان اوقات کی نماز کو باجماعت ادا کرنےکے لئے خاص تعہد کرنا چاہئے ورنہ یہ مراد نہیں کہ دوسری نمازوں کی اہمیت کم ہے۔رؤیت الٰہی کا پہلا فائدہ کہ وہ خوبصورتی پیدا کرتی ہے ہر رؤیت انسان کے اندر تغیر پیدا کرتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰى رَبِّھا نَاظِرَۃٌ(القیامۃ :۲۳ ،۲۴)کہ اس دن خدا کے حضور ہونے والوں کے منہ بڑے خوبصورت ہوں گے کیوں؟ اس لئے کہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے جب خدا کی تجلی سامنے ہوتی ہے تو اس کی بابرکت شعاعوں سے مؤمن بھی خوبصورت ہوجاتا ہے اور جب تجلی ہوتی ہے تو اس کا رُوح پر اثر پڑتا ہے اور روح یکدم ترقی کرکے اوپر کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے ہماری آج جو روح ہے آخرت میں یہ جسم ہوگی اورعالم برزخ میں نئی روح تیار ہوگی پھر وہ روح بھی ترقی ٔ مدارج کے ساتھ نئی روحانی پیدائشیں *بخاری کتاب التوحید