انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 365

بھی ہیں فرشتوں سے کہا گیا تھا کہ آدم کی اطاعت کرو اور حضرت یوسفؑ کے متعلق جو آیت ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ یوسف ؑ کی ترقی دیکھ کر اوران کو سلامت پاکر ان کے والد نے شکریہ کے طور پر خدا کو سجدہ کیا نہ یہ کہ یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔شرک کی سخت ناپسندیدگی کی وجہ اب مَیں بتاتا ہوں کہ شرک کو اتنا نا پسند کیوں کیا گیا ہے؟کہ سارے قرآن میں اس پر نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔اوّل یہ کہ خدا کا شریک بنانے سے اس کی غیرت بھڑکتی ہے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی شان کسی اور کو دی جائے اور غیرت بھی اعلیٰ صفات میں سے ہے اور اس کا پایا جانا خدا تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے پر دلالت کرتا ہے نہ کہ نقص پر۔دوم بندوں پر رحم اور مہربانی بھی شرک سے روکنے کا باعث ہے اگر لوگ خدا کے سوا اور معبودوں پر بھی یقین رکھیں گے تو اکثر کم ہمتی کی وجہ سے (تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں ) کہہ دیں گے کہ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم نے چھوٹےخداؤں کو خوش کرلیا۔اس سے آگے جاکر کیا کرنا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی عبادت سے جو روحانی ترقیات کے لئے ضروری ہے محروم ہوجائیں گے۔پس لوگوں کو ہلاکت سے بچانےکے لئے شرک کے دُور کرنے کی طرف اللہ تعالیٰ دوسرے امور کی نسبت زیادہ توجہ فرماتا ہے۔سوم یہ کہ جو اُمور معبود ان باطلہ میں تسلیم کئے جاتے ہیں اگر فی الواقع خدا کے سوا اور وجودوں میں پائے جائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان حجاب اور پردے پیدا کر چھوڑے ہیں حالانکہ بنی نوع انسان کو پیدا ہی قربِ الٰہی کے حصول کے لئے کیا گیاہے۔پس شرک کی وجہ سے چونکہ محبّتِ الٰہی کم ہوجاتی ہے اور پیدائش کی غرض پوشیدہ ہوجاتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے گویا اللہ تعالیٰ اپنے اپنے بندوں کے درمیان روک پیدا کرنی چاہتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس غلط عقیدہ کو مٹاکر انسان کے دل میں اپنی کامل محبّت پیدا کرنی چاہتا ہے جو بلا توحید پر ایمان لانے کے ہوہی نہیں سکتا۔چوتھے یہ کہ شرک سے جھوٹ ،جہالت اور بزدلی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے ان گناہوں میں مبتلا ہوں اس لئے وہ اس ناپاکی کو دور فرماتا ہے۔جھوٹ شرک میں یہ ہے کہ جو طاقتیں خدا نے کس کو نہیں دیں ان کی نسبت کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں شخص یا