انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 364

وجود ہے جو سجدہ کا مستحق ہے اس کو ہمارےسامنے پی کرو قرآن کریم نے اس طریق کو اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے مشرک کا ناطقہ اس طرح بند ہوگیا ہے کہ اب موحد کے سامنے اس کی زبان نہیں کھل سکتی۔مثال کے طور پر میں مندجہ ذیل آیات کو پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْھآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللہُ بِھا مِنْ سُلْطٰنٍ۰ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔(یوسف:۴۱) یعنی تم لوگ سوائے چند ناموں کے جو تم نے اور تمہارے آباء نے آپ ہی رکھ لئے ہیں اور کسی کی عبادت نہیں کرتے خدا تعالیٰنے ان کے متعلق کوئی دلیل نہیں نازل کی اپنی طاقتیں دینےکا اختیار خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے نہ کہ تمہارے اختیار میں پھر ان کو کس نے طاقتیںدیدیں خدا تعالیٰ کی طر ف سےآنے والے سب انبیاء تو یہی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں کہ اس کی پرستش کرو۔یہی سیدھا اور پکّا طریق ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہم یہ بحث نہیں کرتے کہ خدا کے سوا کوئی پرستش کے قابل ہے یہ نہیں ہمیں یہ بتا دو کہ کیا جِن جِن بُتوں کی تم پُوجا کرتے ہو ان میں خدا کی طاقت آگئی ہے اگر یہ ثابت کردو کہ وہ بیٹے دینے کی طاقت رکھتے ہیں،انسانوں کےدُکھ دور کرسکتے ہیں تو ان کے معبود ماننے میں کیا عذر ہوسکتا ہے؟ لیکن اگر ان میں کچھ بھی طاقت نہیں تو وہ معبود کیسےاوران کے پرستش کیسی؟ فرماتا ہے مشرکوں سے یہی پوچھو کہ جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو ان کے خدا ہونےکی دلیل پیش کرو جب خدائی کے اختیار خدا ہی دے سکتا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا للہِ (یوسف:۴۱)سب اختیار میرےہی پاس ہیں تو ان کے پاس کچھ نہ ہوا مگر تم کہتے ہو کہ وہ یہ بات کرتے ہیں یہ کام کرتے ہیں اس لئے ثبوت دو کہ واقع میں ان میں بعض خدائی طاقتیں ہیں؟ ایک اور جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ھٰذَا خَلْقُ اللہِ فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِہٖ۰ۭ (لُقمٰن:۱۲)خدا کی مخلوق ظاہری ہی ہے اگر ان میں بھی کچھ طاقت ہے جن کو تم معبود بناتے ہو تو دکھاؤانہوں نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ کہاں ہے؟ شاید اس موقع پر کسی کے دل میں خیال گذرے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور یوسف علیہ السلام کو ان کے والد نے سجدہ کیا تھا اگر غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ناجائز ہے تو پھر ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سجدہ کے معنی اطاعت کے