انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 366

چیزیں وہ موجود ہیں۔جہالت اسلئے کہ جن چیزوں کو خدا تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کیلئے اور خدمت کیلئے بھیجا ہے انہیں وہ اپنا افسر اور حاکم سمجھ کر ان سے فائدہ اُٹھانےسے محروم ہوجاتا ہے اور ایسے ذرائع سے ان سے نفع حاصل کرنا چاہتا ہے جس طریق سے وہ نفع حاصل نہیں کرسکتا اور بزدلی اسلئے کہ جن وجودوں سے اسے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں جن سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا وہ ان سے کانپتا اور لرزتا ہے۔حق یہ ہےکہ شرک انسان کا نقطہ نگاہ بہت ہی محدود کردیتا ہے اور اس کی ہمت کو گرا دیتا ہے اور اس کے مقصد کو ادنیٰ کردیتا ہے۔مشرک انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا اور اسے کسی واسطہ کی ضرورت ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نےاپنے اور انسان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں رکھاوہ سب انسانوں سے یکساں محبّت کرتا ہے۔ہاں اگر ان کے اعمال میں فرق ہو تو بیشک وہ اعمال کے لحاظ سے تعلق میں بیشک فرق کرتا ہے لیکن بلحاظ بندہ ہونے کے کافر اور مؤمن سےاس کا یکساں سلوک ہے اور سب کےلئے اس کے دروازے کھلے ہیں جو چاہے اس کےقریب کی تلاش کرے۔وہ نہیں چاہتا کہ انسان اور اس کےدرمیان کوئی واسطہ بن کر کھڑا ہو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔بلکہ یہ چاہتا کہ انسان خود اس کے سامنے آئے اب دیکھو کہ کوئی بادشاہ اپنی رعایا سے چاہے کہ وہ خود اس سے بات کریں مگر وہ دوسروں سے جاکر کہیں کہ تم ہمارا کام کردو ہم بادشاہ کے پاس نہیں جاتے تو کیا وہ پسند کرے گا؟ یہ خیال غلط ہے کہ بادشاہ سب سے تعلق نہیں رکھ سکتے آخر ان کے نائب مقرر ہوتے ہیں کیونکہ بادشاہ انسا ہوتا ہے اور اس کی طاقتیں مھدود ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقتیں محدود نہیں ہیں۔بادشاہ کے لئے سب سے تعلق رکھنا ممکن نہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت میں ہے کہ وہ سب سے براہ راست تعلق رکھے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے اور بندنے کے درمیان کوئی حجاب بنے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ واس کا قرب حاصل کرے۔دیکھو توحید پر ایمان لا کر انسان کی نظر کسقدر وسیع ہوجاتی ہے اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اس کا تعلق براہِ راست خدا تعالیٰ سے ہو اسے خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے کسی شفیع کی ضرورت نہیں نہ کسی نبی کی نہ کسی ولی کی۔نبیوں کی اطاعت کی وجہ اس موقع پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو نبیوں کی اطاعت کیوں کی جاتی ہے؟اسکا جواب یہ ہےکہ اطاعت اور