انوارالعلوم (جلد 5) — Page 67
انوار العلوم جلد ۵ ، صداقت اسلام ہمارے زمانہ میں خدا کا ایک محبوب پس اسلام میں بہت سے ایسے بزرگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے محبوب تھے۔اور اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کا ایک خاص محبوب گزرا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کے مفاسد کو دیکھ کر اور خدا تعالیٰ سے لوگوں کا بعد اور بے رخی پا کر ایک انسان بھیجا جس نے اسلام کی خدمت کی اور اسلام کی سچائی ثابت کی۔یہ وہ زمانہ تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بد سے بدتر قرار دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ سو سال تک دُنیا سے مٹ جائے گی۔اس وقت خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے کہا کون ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو مٹا سکے پیس ایسے زمانہ میں جبکہ اسلام غریب ہو چکا تھا اور ایسے وقت میں جبکہ اسلام بلحاظ تعلیم یا بلحاظ اس کے کہ سائنس اور علوم کی ترقی کی وجہ سے اس پر نئے نئے اعتراض کئے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ قرآن میں ایسی باتیں درج ہیں جو خلاف عقل ہیں پھر جو علم نکلتا اسلام پر حملہ آور ہوتا۔ڈارون تھیوری نکلی تو اس کے ذریعہ اسلام پر حملے کئے گئے جیالوجی کے رو سے اسلام کو ہدف اعتراضات بنایا گیا۔اسٹرانومی کے ذراجہ اسلام میں نقص نکالے گئے۔غرض ہر علم کی تحقیقات کا ہی نتیجہ بتایا گیا کہ اسلام نقصوں اور غلطیوں سے پر ہے اور کسی علم کے مقابلہ پر ٹھہر نہیں سکتا۔اس وجہ سے صاف طور پر کہہ دیا گیا کہ سلمان جوں جوں علوم سے واقف ہوتے جائیں گے خود بخود اسلام کو چھوڑ دیں گے اور یہ خیال الیسا وسیع ہوا کہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے کہہ دیا کہ اسلام کی اصلاح ہونی چاہئے اور زمانہ حال کے مطابق اس کی تعلیم کو بنانا چاہئے۔جب یہ حالت ہوگئی تب وہ خدا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ تو میرا ایسا پیارا اور محبوب ہے کہ تیرے غلام بھی میرے محبوب ہو جائیں گے۔اس خدا کی غیرت جوش میں آئی اور اس کی محبت فوارے کی طرح پھوٹی۔اس نے اسلام کی عزت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ثابت کرنے کے لئے ایک ایسے انسان کو کھڑا کر دیا جو کیا محافظ شان و شوکت اور کیا بلحاظ مال و دولت اور کیا بلحاظ شہرت و عزت دنیا میں کوئی حقیقت نہ رکھتا تھا اور کہا کہ میں اس کے ذریعہ اس زمانہ میں اسلام کو قائم کروں گا اور دنیا میں پھیلا دوں گا۔پس خدا تعالے نے ایسے نازک اور پُر خطر زمانہ میں اسلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ایک دروازہ کھولا اور قادیان سے اس شخص کو چنا اور اسے کہا کہ چونکہ تونے محمد صل اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا جوڑا اپنی گردن میں پوری طرح ڈالا ہے اس لئے میں تجھے اسلام کی خدمت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے لئے کھڑا کرتا ہوں۔