انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 68

انوار العلوم جلد ۵ حضرت مرزا صاحب کی بعثت سے اسلام کی صداقت کا ثبوت اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح معلوم ہو کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ سے محبت تھی اور خدا تعالیٰ کو اس سے محبت تھی اور اس کا کھڑا ہونا کس طرح اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے ؟ دوسرے مذاہب والوں کا حق ہے کہ ہم سے یہ سوال پوچھیں کہ یہ کس طرح ثابت ہوا کہ اس شخص کا کھڑا ہونا اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے ؟ کیوں نہ کہا جائے کہ چونکہ تم کو اسلام سے محبت ہے اس لئے تم نے یہ ڈھکوسلا بنالیا ہے۔اس کے لیے جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا پیارا اور محبوب ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔اس کے مطابق دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اس کے ساتھ تھی یا نہیں اور یہ اس طرح دیکھی جا سکتی ہے کہ جب وہ خدمت اسلام کے لئے کھڑا ہوا تو جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ بتایا ہے کہ بہت معمولی حالت میں تھا اور کوئی اس کی شان و شوکت نہ تھی۔نہ وہ دنیا میں مشہور تھا نہ اس کے پاس مال و دولت تھی نہ اس کے پاس جتھا اور طاقت تھی ، مگر اس زمانہ میں اس نے اعلان کیا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا " پھر اس نے اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ " فَحَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ (تذکرہ منٹ ایڈیشن چہارم) وہ وقت آگیا ہے کہ تیری نصرت ہو اور تو دنیا میں پہچانا جائے۔پھر اس نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر اعلان کیا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا " (تذکره صفحه ۱۸۴،۱۸۱ ایڈیشن چهارم) غرض اس وقت جب کہ وہ اکیلا تھا کوئی گروہ چھوڑ چند لوگ بھی اس کے ساتھ نہ تھے۔اس کے گاؤں میں لوگ باہر سے نہ آتے تھے۔اس کا گاؤں کوئی مشہور گاؤں نہ تھا۔بالکل معمولی اور چھوٹا سا گاؤں تھا۔اس وقت خدا نے اسے بتایا کہ میں تیرا نام تمام دنیا میں پھیلا دوں گا۔اس وقت اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ اسی گاؤں کے اکثر لوگ جس میں وہ پیدا ہوا اور جس میں اس نے پرورش پائی اس کا نام تک نہ جانتے تھے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو دنیا میں وہی عزت اور شہرت حاصل ہوئی یا نہیں ؟ اور وہی مدد اور اعانت حاصل ہوئی یا نہیں ؟ جس کا خدا تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا تھا دعوی سے قبل تو اس کی یہ حالت تھی کہ اپنے گاؤں کے لوگ بھی اس کو نہ جانتے تھے لیکن دعوای کے بعد آپ کی دنیا میں ایسی شہرت ہوئی کہ کوئی ملک اور کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں کے لوگ آپ کو نہ جانتے ہوں۔ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں آپ کا نام پھیلا اور اس طرح وہ بات پوری ہوئی جس کا اعلان