انوارالعلوم (جلد 5) — Page 66
انوار العلوم جلد ۵ صداقت اسلام دل میں پیدا ہو سکتی ہے بلکہ تعلیم بھی دیتا ہوں کہ خدا کو تمہاری محبت پیدا ہو جائے پس اسلام یہی نہیں کہتا کہ تم نیک بن جاؤ بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ میری تعلیم پر عمل کر کے تم ایسے بن سکتے ہو کہ خود خدا تمہیں بلائے اور گئے کہ تم میرے محبوب ہو۔پھر اسلام یہی نہیں کہتا کہ مرنے کے بعد تمہیں پتہ لگے گا کہ اسلام سچا مذہب ہے بلکہ اسی دنیا میں ثبوت دیتا ہے کہ تم سیدھے راستہ پر ہو اور وہ اس طرح کہ فرماتا ہے۔ان كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) کہ آؤ اسی دنیا میں خدا کے محبوب بن جاؤ محبوب کے یہ معنی ہیں کہ اگر اس کو کوئی تکلیف ہو تو محبت اس کی مدد کرے اور اس سے کلام کر کے اُسے تسلی دے۔اس کو کوئی شخص اپنا محبت نہیں سمجھ سکتا جو یہ کسے کہ مجھے فلاں سے محبت ہے اور فلاں میرا محبوب ہے لیکن جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کی کوئی مدد نہ کرے تو خدا تعالیٰ کے محبوب ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جب وہ دکھ اور تکلیف میں ہو تو خدا اس کی مدد کرے اور اس سے کلام کرہے۔اسلام میں خدا سے کلام کرنے کا دروازہ کھلا ہے اس کے ماتحت جب ہم اس دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کا دروازہ کھلا بتاتا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (سوره فاتحہ کہ اسے مومنو! تم ہمیشہ یہ دعا کیا کرو کہ اسے خدا ہمیں سیدھا رستہ دیکھا۔یعنی وہ رستہ جس پر چل کر پہلے لوگ خدا تک پہنچے ہیں اور خدا تعالے انہیں یقین دلاتا رہا ہے کہ تم مجھ تک پہنچ گئے ہو۔اسلام کی دیگر مذاہب پر فضیلت یہ بین فرق ہے اسلام اور دیگر مذاہب ہیں۔اخلاقی تعلیم میں مذاہب کا آپس میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ہر ایک مذہب بڑے کام کرنے سے روکتا اور اچھے کام کرنے کی تلقین کرتا ہے لیکن اسلام کہتا ہے کہ اسی دنیا میں تم کو معلوم ہو جائے گا کہ تم خدا کے مقرب اور محبوب بن گئے ہو۔چنانچہ اس کا ثبوت اسلام میں ملتا ہے۔کیونکہ ہر زمانہ میں ایسے لوگ آتے رہے ہیں جنہوں نے دعوی کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو انہوں نے دیکھا اور خدا ان سے کلام کرتا ہے۔چنانچہ حضرت معین الدین چشتی " حضرت محی الدین ابن عربی ، حضرت جنید بغدادی اور اور بہت سے بزرگ اسلام میں ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل میں خدا کی محبت پیدا کی اور خدا تعالیٰ نے بھی ان سے محبت کی اور انہیں اپنی محبت کا جبہ پہنایا ان کی ہر تکلیف کو اس نے خود دُور کیا اور ہر شکل وقت میں انکی مدد کی۔