انوارالعلوم (جلد 5) — Page 576
الدار العلوم : ۵۷۶ کام لینا جائز نہیں لیکن جب عقل اس کی تائید کرتی ہو اور حتی اور صداقت کے لئے حق اور صداقت کے ساتھ کام لیا جائے تو اس کا استعمال جائز ہے بلکہ بسا اوقات ضروری ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس طریق سے بہت کام لیا گیا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود نے بھی اس سے خوب ہی کام لیا ہے۔آپ وفات مسیح کے متعلق دلائل لکھتے لکھتے یہ بھی لکھ جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں دفن ہوں اور حضرت عیسی آسمان پر بیٹھے ہوں۔ایک مسلما کی غیرت اس بات کو کس طرح گوارا کر سکتی ہے۔یہ وفات مسیح کی عقلی دلیل نہیں لیکن ایک روحانی دلیل ہے اور اس سے جذبات بھی ابھر آتے ہیں۔اور اس کا جس قدر دلوں پر اثمہ ہوتا ہے ہزار ہا دلیلوں کا نہیں ہوگا۔کیونکہ اس کے ذریعہ سے وہ میلان طبیعی جو نسلاً بعد نسل اسلام سے تعلق رکھنے کے سبب سے ایک مسلمان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہے وہ خود بخود جوش میں آجاتا ہے اور کسی بات کو سامنے نہیں آنے دیتا۔حضرت صاحب کی تمام کتابوں میں یہی بات ملتی ہے۔اگر عقلی دلائل اور شعور سے کام لینے کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر دیکھیں تو دونوں پائے جاتے ہیں۔اور اگر صرف عقلی دلائل کو مد نظر رکھیں تو ساری کتاب میں عقلی دلائل ہی نظر آتے ہیں۔اور اگر جذبات کے پہلو کو مدنظر رکھ کر دیکھیں تو یسی معلوم ہوتا ہے کہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ جذبات کو تحریک کی گئی ہے۔ہر ایک شخص کی کتاب میں یہ بات نہیں پائی جاسکتی۔اور یہ حضرت صاحب کے قادر الکلام ہونے کا ثبوت ہے۔آپ نے عقلی دلائل اور جذبات کو ایسے عجیب رنگ میں ملایا ہے کہ ایسا کرنا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔لیکن گو ہر ایک اس طرح نہیں کر سکتا مگر یہ کر سکتا ہے کہ ان سے الگ الگ طور پر کام سے عقلی دلائل سے الگ کام کے اور جذبات سے الگ۔حضرت صاحب نے ہر موقع پر جذبات کو ابھارا ہے اور کبھی محبت کبھی غضب کبھی غیرت کبھی بقائے نسل کے کبھی حیا کے جذبات میں حرکت پیدا کی ہے۔چنانچہ آپ نے عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ کیا تم لوگ میسیج کی نسبت صلیب پر مرنے کا عقیدہ رکھ کر اسے ملعون قرار دیتے ہو اس پر غور کرو اور سوچو۔اس طرح ان کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت کے جذبات کو پیدا کر دیا گیا اور اس جائز محبت کے جذبات کے ذریعہ اس ناجائز محبت کے جذبات کو کہ انہوں نے میسج کو خدا سمجھ رکھا ہے کاٹ دیا گیا۔