انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 575

انوار العلوم جلد ۵ ۵۷۵ ہدایات زرین ہیں اس لئے کسی نہ کسی دروازہ سے حق اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔اس لیئے ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ اس سے ضرور کام ہے۔یعنی لوگوں کے سامنے ایسے دلائل پیش کرے جن کو عقل تسلیم کرتی ہے۔اس ذریعہ سے وہ بہت جلدی دوسروں سے اپنی باتیں منوا لے گا اور وہ کام کرے گا جو حکومتیں بھی نہیں کرسکتیں ابھی دیکھ لو کچھ لوگوں نے غلط طور پر عام لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بٹھا دیا ہے کہ گورنمنٹ سے اہل ہند کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ نقصان پہنچ رہا ہے۔گورنمنٹ کے پاس طاقت ہے سامان ہے مگر وہ روک نہیں سکتی کہ یہ خیال لوگوں کے دلوں میں نہ بیٹھے۔وجہ یہ کہ اس خیال کو بٹھانے والے تو عقلی دلائل سے کام لے رہے ہیں لیکن گورنمنٹ ان سے کام نہیں لے رہی اس لئے اس کا کچھ اثر نہیں ہو رہا۔تو عقلی دلائل سے کام لینے پر بہت اعلیٰ درجہ کے نتائج نکل سکتے ہیں۔شعور کی مدد سے مراد اس سے بڑھ کر شعور ہے مگر جہاں عقل کی نسبت زیادہ نتیجہ خیز ہے وہاں خطرناک بھی ایسا ہے کہ جس طرح بعض اوقات ڈائنامیٹ چلانے والے کو بھی ساتھ ہی اڑا کر لے جاتا ہے۔اسی طرح یہ بھی کام لینے والے کو اڑا کرلے جاتا ہے۔لوگوں نے شعور کی مختلف تعریفیں کی ہیں مگر میری اس سے مراد اس جس سے ہے جو فکر اور عقل کے علاوہ انسان کے اندر رکھی گئی ہے اور جس کا تعلق دلائل عقلیہ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اندرونی جستوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جسے ہم جذبات کہہ سکتے ہیں جیسے محبت ہے ، غضب ہے ، شہوت ہے ، خواہش بقا ہے۔بہت دفعہ عقلی دلائل سے کسی مسئلہ کو ثابت کرنے سے اس قدر اس کی طرف میلان یا اس سے نفرت پیدا نہیں ہوتی۔مگر ان جذبات کو اُبھار دینے سے انسان فوراً بات کو قبول کر لیتا ہے اور ان احساسات کو ابھار کر بڑے بڑے کام لئے جاسکتے ہیں اور لئے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک گھڑی میں کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔چنانچہ دیکھا ہو گا کہ کہیں بحث ہو رہی ہے۔جب مولوی دیکھے کہ میں ہارنے لگا ہوں تو وہ کہہ دے گا۔مسلمانو ! تمہیں شرم نہیں آتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہو رہی ہے تم خاموش بیٹھے سن رہے ہو۔یہ سن کر سب کو جوش آجائے گا اور وہ شور ڈال دیں گے۔چاہے ہتک ہو رہی ہو یا نہ ہو رہی ہو۔جذبات جس وقت اُبھر جاویں تو غلط اور صحیح کی بھی تمیز نہیں رہتی اور ایک رو چل پڑتی ہے جس میں لوگ بہنے لگ جاتے ہیں۔غلط طور پر اس سے ند