انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 553

۵۵۳ سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پربھی پڑیں گے۔یہ اور بات ہے کہ آگے کوئی انہیں قبول کرے یانہ کرے لیکن پڑیں گے ضرور۔دوسرے خاص اثرات ہوتے ہیں جو انہی لوگوں پر پڑتے ہیں۔جو شیطان سے محفوظ نہیں ہوتے یا اس کے زیر اثر ہو چکے ہوتے ہیں۔ان دونوں قسم کے اثرات کو جو شخص قبول کر لیتا ہے وہ محفوظ نہیں ہوتا۔اور جو قبول نہیں کرتا وہ ان سے فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔شیطان بر اثر ڈالتا ہے لیکن وہ اسے نیک بنا لیتا ہے اور بجائے شیطان سے بدی کی تعلیم حاصل کرنے کے اس سے نیک کام لے لیتا ہے۔اس کا طریقی یہ ہے کہ شیطان کا حملہ جذبات کے ذریعہ ہوتا ہے۔شیطان ان کو ابھار دیتا ہے اور وہ بدی میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن اگر انسان ارادہ کی قوت کو بڑھا ہے تو جتنی قوت ارادی بڑھ جائے گی اتنا ہی زیادہ وہ نیکی میں بڑھ جائے گا۔جب قوتِ ارادی کم ہو تب ہی انسان پر شیطانی تحریک کا اثر ہوتا ہے۔مثلاً ناجائز طور پر شہوت پیدا ہوتی ہے یا مال کی محبت پیدا ہوتی ہے۔اب اگر قوت ارادی کم ہوگی تو ان جذبات کو انسان غلط طور پر استعمال کرے گا۔لیکن اگر قوت ارادی زیادہ ہوگی تو ان کو اپنی جگہ اور محل پر عمدہ طریق سے استعمال کرے گا۔تو قوت ارادی کے بڑھانے سے انسان شیطان کی بری تحریکوں سے بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کے لئے شیطان مقرر نہیں۔صحابہ نے پوچھا کیا آپ بھی ؟ آپ تو محفوظ ہوں گے ؟ فرمایا ہاں میں بھی ایسا ہی ہوں۔مگر مجھے خدا نے طاقت دی ہے اور میں شیطان پر غالب آگیا ہوں جب مجھے وہ کوئی تعلیم دیتا ہے تو نیکی کی ہی دیتا ہے برائی کی نہیں دیتا۔(مسلم کتاب صفة القيامة والجنة والنارباب تحريش الشيطان وبعثة سراياها لفتنة الناس وان مع كل انسان قريباً ، اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ایک ایک شیطان ہر انسان کے لئے مقرر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان نیکی کی تحریک کرتا تھا۔اگر وہ الگ وجود تھا اور اس نے بدی کی تحریک چھوڑ کر نیکی کی تحریک شروع کر دی تھی تو پھر وہ شیطان کس طرح رہا۔پھر تو وہ فرشتہ ہو گیا۔اگر کہو کہ وہ پہلے شیطان تھا لیکن جب نیکی کی تحریک کرنے لگا تو فرشتہ ہو گیا۔تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نیکی کی تحریک کرنے کا ذکر کرتے وقت بھی اسے شیطان ہی کہا ہے۔اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام شیطان اس