انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 552

انوار العلوم جلد ۵ ۵۵۲ تحریک سمجھے اور ایسی بات پر اور زیادہ زور دے، مثلاً چندہ دیتا ہے لیکن تبلیغ نہیں کرتا اور خیال پیدا ہوتا ہے کہ تبلیغ کرنا ضروری نہیں تو تبلیغ پر زیادہ زور دے جس طرح لڑکے جس مضمون میں کمزور ہوتے ہیں اسی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔اسی طرح تم بھی جس نیکی میں کمزوری پاؤ اس پر زیادہ زور دو اور جو کسی اس میں ہو اس کو پورا کرو۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تحریک شیطانی سے بچنے کا کیا طریق ہے۔" جب شیطان کسی نیکی کی تحریک کرے اور غرض اس کی یہ ہو کہ کسی بڑی نیکی کو چھڑا کر بدی کرائے تو ایسے موقع پر موازنہ کر لینا چاہئے۔اور جس نیکی سے شیطان باز رکھنا چاہے وہ بھی کر لی جائے اور جو نیکی کرائے وہ بھی کر لینی چاہئے۔مثلاً ذکر کرنے میں انسان کمزور ہے اس کے متعلق شیطان نے تحریک کی تو یہ بھی کرے اور ساتھ ہی فرائن میں بھی کمی نہ آنے دے ان کو بھی پورا کرے اس طرح شیطان اس سے مایوس ہو جائے گا اور پھر اس قسم کی تحریک کرنے کی جرات نہیں ترے گا۔حضرت مسیح موعود سُنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ کی صبح کے وقت آنکھ نہ کھلی اور جب کھلی تو دیکھا کہ نماز کا وقت گزر گیا ہے اس پر وہ سارا دن روتے رہے۔دوسرے دن انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز کے لئے اُٹھاتا ہے۔انہوں نے پوچھا تو کون ہے۔اس نے کہا ئیں شیطان ہوں ہو تمہیں نماز کے لئے اُٹھانے آیا ہوں۔انہوں نے کہا تجھے نماز کے لئے اُٹھانے سے کیا تعلق؟ یہ بات کیا ہے ؟ اس نے کہا کل جو میں نے تمہیں سوتے رہنے کی تحریک کی اور تم سوتے رہے اور نماز نہ پڑھ سکے اس پر تم سارا دن روتے رہے خدا نے کہا اسے نماز با جماعت پڑھنے سے کئی گنا بڑھ کر ثواب دے دو۔مجھے اس بات کا صدمہ ہوا کہ نماز سے محروم رکھنے پر تمہیں اور زیادہ ثواب مل گیا۔آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ آج بھی کہیں تم زیادہ ثواب نہ حاصل کر لو۔تو شیطان تب پیچھا چھوڑتا ہے جب کہ انسان اس کی بات کا توڑ کرتا رہے۔اس سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔اور یہ بات اسلام سے ثابت ہے کہ شیطان مایوس ہو جاتا ہے یہ اب میں یہ بتا تا ہوں کہ شیطان کی تحریک کو انسان نیکی کے رنگ میں استعمال کر سکتا ہے اور وہ نیکی کے رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ شیطان کے دو قسم کے اثر ہوتے ہیں۔ایک عام اثرات جیسے بد خیال پیدا کرنا جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔ایسے خیالات کے اثر ہم میں سے ہر شخص پر حتی کہ