انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 367

انوار العلوم جلد الله اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کوئی اعتراض ہے تو وہ پیش کرے۔اگر اس کے اعتراضات تنقید کی کسوٹی پر سچے ثابت ہوں تب جو چاہے دعوی کرے۔اسلامی پردہ نیکی کے قیام کا بہترین ذریعہ ہے۔میں اس بات پر بھی یقین کرتا ہوں کہ اسلامی پردہ نیکی اور تقویٰ کے قیام کے لئے بہترین ذریعہ ہے اور میں مشتاق ہوں کہ اس شخص کے دلائل سنوں جسے اس پر کوئی اعتراض ہو۔یں کثرت ازدواج کا نہ صرف قائل ہوں بلکہ اس پر عامل ہوں۔مسئلہ کثرت ازدواج اور میرے نزدیک اسلامی احکام کے ماتحت ایک سے زیادہ نکاح کرنے نہ صرف به که زناکاری نہیں بلکہ اول درجہ کی برد باری، قربانی ، اختیار اور تقویٰ کی علامت ہے اور کوئی عیاش انسان ان قواعد کے ماتحت دوسرا نکاح کر ہی نہیں سکتا۔صرف اللہ اللہ کرنا خالی اللہ لہ کا ذکر کرنا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور اگر کوئی سمان ہندوؤں کی دیکھا دیکھی ایسا کرتا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کئی منڈ مسلمانوں کی قبروں پر جاکر سجدہ کرتے ہیں۔گوشت کو میں ان خوراکوں میں سے سمجھتا ہوں جو انسان کے لئے مضر نہیں گوشت خوری بلکہ مفید میں اور اسلام نے جو اس کو حلال کیا ہے اس حکم کو میں نہایت ہی پر حکمت سمجھتا ہوں اور جس شخص کو اس کے غیر قدرتی غذا ہونے کا خیال ہو اس کے دلائل معلوم کرنے پر اس کے اعتراضات کو وہم اور خیال ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔انشاء اللہ۔اور جو شخص یہ کہنا ہے کہ گوشت انسان کی قدرتی غذا نہیں میرے نزدیک وہ ایسا نا واقف ہے کہ قدرتی غذا کے معنی بھی نہیں سمجھ سکتا۔ہر وہ غذا جو غذا کا کام دے سکتی ہے اور انسان کے جسم کی نشو و نما اس سے ہوسکتی ہے اور زہر نہیں ہے وہ قدرتی غذا ہے اس کو غیر قدرتی کہنا جاہل کا کام ہے۔قدرتی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جس کے بغیر گزارہ نہ ہو سکے کیونکہ ایسی کوئی بھی غذا نہیں جس کے بغیر انسان زندہ نہ رہ سکے۔بعض ممالک کی اصل غذا گیہوں ہوتی ہے، بعض دوسرے ممالک کے لوگ گیہوں کو اس طرح ہضم نہیں کر سکتے جس طرح چاول کو ، بعض اور اقوام جوالہ کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ، بعض زیادہ تر گوشت اور دودھ پر گزارہ کرتی ہیں۔پس ایسی کوئی بھی غذا نہیں جس کے بغیر گزارہ ہی نہ ہوسکے اور اگر اس اصل سے کسی غذا کو قدرتی قرار دیا جائے تو کوئی غذا بھی قدرتی نہیں رہ سکتی۔