انوارالعلوم (جلد 5) — Page 366
انوار العلوم جلد ۵ 144 اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب عقیدہ ہی نہیں مانتا بلکہ اسبات پر مجھے کامل یقین ہے اور یہ یقین اس امر کا نتیجہ نہیں کہ میں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہوں بلکہ اس یقین کی بناء دلائل اور مینی شواہد پر ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر اس شخص کے اعتراضات کا جواب دے سکتا ہوں جو قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کا منکر ہو خواہ وہ اعتراضات عقلی ہوں یا نقلی۔میں فرشتوں کے متعلق اعتراض اسی طرح میرا یہ یقین ہے کہ فرشتے خیالی یا ورمی وجود نہیں کر نیوالوں کو جواب دے سکتا ہوں ہیں بلکہ ان کا وجود عالم خیال سے باہر بھی موجود ہے اور قرآن کریم نے فرشتوں کی نسبت جو کچھ بیان فرمایا ہے اس کا ایک ایک لفظ درست ہے اور اگر کسی شخص کو ان کے وجود کے خلاف کوئی اعتراض ہو توئی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے شکوک کا ازالہ کر سکتا ہوں اور فرشتوں کا وجود میں صرف اس لئے ہی نہیں مانتا کہیں نے قرآن کریم میں ان کا ذکر پڑھا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے محض فضل اور احسان سے میں نے خود بھی ان کی ملاقات کی ہے اور ان سے کئی علوم سیکھتے ہیں اور ان کا انکار الیسا ہی ہے جیسا کوئی نا بینا سورج کی روشنی کا انکار کر دے۔جب تک انسان کی روحانی آنکھیں نہ ہوں وہ کب اس بات کا اہل ہو سکتا ہے کہ روحانی وجودوں کو دیکھ سکے۔رسول کریم نے ایک آن کیلئے کسی کواللہ کا شریک نہیں بنایا میرا سبات پر بھی یقین ہے کہ بعثت کے بعد تو الگ رہا بعثت سے پہلے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں بنا یا اور جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے کبھی بھی مشرکوں کے کہنے سے ان کے تین دیوتاؤں کو مان لیا وہ تاریخ سے نا واقف اور حقیقت سے جاہل ہیں وہ اپنے دعوئی کا ثبوت پیش کریں تو ہم باہر سے نہیں خود انکے دیئے ہوئے لاڈل سے ہی ان کے دعویٰ کا باطل ہونا ثابت کردیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ اسلام تمام دنیا کیلئے ہے ئیں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ اسلام عرب کے نیم وحشیوں کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے بہترین متمدن لوگوں کے لئے بھی مفید ہی نہیں بلکہ ضروری ہے اور میں ہر اس شخص کے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں جو اسلام کا حلقہ اثر صرف نیم وحشیوں تک محدود رکھتا ہے۔اسلام عملی طور پر یورپ اور ایشیاء کے متمدن ممالک معینی یونان کے علاقوں ایران اور ہندوستان کی اصلاح کر کے ثابت کر چکا ہے کہ وہ تہذیب کا دعوی کرنیوالے ممالک کے لئے بھی ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ غیر متمدن لوگوں کے لئے اور اگر کسی کو عقلاً اس امر پر