انوارالعلوم (جلد 5) — Page 368
انوار العلوم جلد اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اور اگر گوشت کو قدرتی غذا نہ کہنے کی وجہ لوئی کو ہنی کی یہ دلیل ہے کہ انسانی آنہیں گوشت خور جانوروں کی طرح نہیں ہیں تو یہ دلیل بھی باطل ہے کیونکہ انسان گوشت خور جانور نہیں ہے یہ خیال خود باطل ہے کہ ہر ذی روح کو یا گوشت خور ہونا چاہئے یا سبزی خور - انسان نہ گوشت خور ہے نہ سبزی خور اس کو اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزیں استعمال کرنے کی طاقت دی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں چیزوں کو مہضم کر لیتا ہے ورنہ وہ جانور جو صرف ایک چیز کھانے کی طاقت ، رکھتے ہیں دوسری چیز یا تو استعمال ہی نہیں کرتے یا اس کے استعمال سے ہلاک ہو جاتے ہیں یا متواتر استعمال سے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔پس گوشت کو غیر قدرتی غذا قرار دیکر اسلام پر حملہ کرنا نادانی کا فعل ہے۔پر ہیز گاری اسلامی احکام پرعمل کرنے سے حاصل ہوسکتی ہے میرا یہ بھی یقین ہے کہ پرانوں اور رامائن کے پڑھنے سے نہیں بلکہ اسلامی احکام پر عمل کرنے سے بچی پر نہیز گاری نصیب ہوتی ہے اور میں اس بات کا مشتاق ہوں کہ وہ باتیں معلوم کروں جو رامائن میں ایسی موجود ہیں کہ جن سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے لیکن قرآن کریم اور احادیث اور اسلامی لٹریچر میں موجود نہیں۔میرے نزدیک تو ہندوؤں کی ان مذکورہ بالا کتب میں ایسی کوئی بات نہیں مل سکتی جو پاکیزگی کا باعث ہو مگر اسلام میں موجود نہ ہو۔ہاں ایسی باتیں ضرور مل جاویں گی جو ان کتب میں موجود ہیں اور خود ہند و صاحبان بھی دل سے یہی پسند کریں گے کہ کاش یہ نہ ہو تہیں۔پروفیسر صاحب اسلامی مسائل کے خلاف اپنے عقیدہ کے بیان کے بعد میں جو دلائل رکھتے ہیں۔پیش کریں ! پروفیسر صاحب سے اُمید کرتا ہوں کہ یہ باتیں جو انھوں نے اسلام کی کمزوری ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہیں ان کے متعلق اگر کوئی دلیل ان کے پاس ہے یا ان لوگوں کے پاس ہے جن کی مدد انہوں نے حاصل کی ہے تو اس کو پیش کریں۔میں انشاء اللہ اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں اور اس امر کو یقینی دلائل سے ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں کہ علوم کی ترقی اور سائنس کے انکشافات اگر کسی مذہب کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تو وہ صرف اسلام ہے یہی مذہب ہے جو ہر زمانہ کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے اور پورا کرتا رہے گا۔تعجب ہے کہ پروفیسر صاحب کو وہ چند لوگ تو نظر آگئے جو ان کے صوبہ سے باہر رہتے تھے اور جو اسلام کے بعض مسائل پر معترض تھے