انوارالعلوم (جلد 5) — Page 365
انوار العلوم جلد ۵ ۳۶۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب چھٹی وجہ چھٹی وجہ کسی عقیدہ کے انکار کی یہ ہوتی ہے کہ انسان اس عقیدہ کو باطل سمجھکر نہیں بلکہ اور اعراض اور فوائد کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے کبھی مال کے لالچ کی وجہ سے کبھی اس عقیدہ کے پھیلانے والوں سے جھگڑا ہو جانے کے سبب کبھی عزت کی خاطر کبھی دوستوں کو خوش کرنے کے لئے۔ساتویں وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ واقعہ میں وہ عقیدہ جسے انسان ترک کرتا ہے ساتویں وجہ غلط ہی ہوتا ہے اور انسان پر اس کی غلطی کھل جاتی ہے اس لئے وہ اس کا انکار کر دیتا ہے۔پروفیسر صاحب نے نتیجہ نکالنے میں غلطی کی غرض بعض لوگوں کے کسی عقید و یا نہیں کو ترک کر دینے سے یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ عقیدہ یا مذہب ہی کمزور ہے بلکہ لیا اوقات اس ارتداد کا باعث اس عقیدہ کا غلط ہونا نہیں اس کا انکار کرنے والوں کی کمزوری یا کوتاہی یا بدنیتی یا غلطی ہوتا ہے۔اور جب کسی مذہب سے پھرنے والوں کے اقوال کو اس مذہب کی کمزوری کے ثبوت میں پیش کیا جائے تو مدعی کا یہ بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ یہ ارتداد اس مذہب کی کمزوری کے سب سے ہے نہ کہ کسی اور سبب سے، مگر پروفیسر رام دیو صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ چند لوگوں کے خیالات پیش کر کے جھوٹ نتیجہ نکال لیا ہے کہ اسلام اس زمانہ کے لوگوں کی تسلی نہیں کر سکتا۔میں نے یہ جوابات اس بات کو فرض کر کے دیتے ہیں کہ پروفیسر صاحب نے جو کچھ مٹر خدابخش صاحب اور سید امیر علی صاحب اور مسٹر مظہر الحق صاحب اور مسٹر یوسف علی صاحب کی نسبت لکھا ہے وہ درست ہی ہے لیکن مجھے یہ شبہ کرنے کی کافی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے خیالات کے اظہار میں بھی پپروفیسر صاحب کو غلطی لگی ہے۔مگر چونکہ پہلے دو صاحبوں کی کتب اس وقت میرے پاس موجود نہیں ہیں اور دوسرے دو صاحبوں کی تقریر کا حوالہ پر وفیسر رام دیو صاحب نے نہیں دیا اس لئے میں اس امر کی نسبت کچھ تحریر نہیں کر سکتا کہ جو کچھ انہوں نے ان صاحبان کی نسبت لکھا ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں ہاں ان کو اس امر کے متعلق اپنا عقیدہ بنا دیتا ہوں۔میں قرآن کریم پر تعلی یا نقلی اعتراض میرے نزدیک قرآن کریم خداتعالی کا کلام ہے اوراس کا ایک ایک لفظ اسی طرح محفوظ ہے جس طرح کہ وہ رسول کر نیوالوں کو جواب دے سکتا ہوں کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور یہ بات میں صرف