انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 477

خطاب جلسہ سالانہ کے کار نمبر ۱۹۱۹ ء دے کہ الحکم بند ہو گیا ہے تو شیخ صاحب اس سے لڑنے کے لئے تیا ر ہو جاتے ہیں۔سردیوں میں ان کے پاس کپڑے نہیں ہوتے کھانے کے لئے کچھ نہیں ہو تا مگر جب بھی ہاتھ میں کچھ آتا ہے اخبار جاری کر دیتے ہیں۔بدر والوں پر مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے حضرت صاحب کے خطاب کی قدر نہیں کی۔مگر الحکم کے متعلق اگر کوئی کہے کہ اس طرح جاری رکھنے سے کیا فائدہ۔اسے بند ہی کر دو تو شیخ صاحب کہا کرتے ہیں حضرت صاحب نے اسے اپنا بازو کہا ہے میں کس طرح بند کر دوں یہ بہت بڑا اخلاص ہے۔اور جب تک انسان کو عرفان سے کچھ حصہ نہ ملا ہو ایسا نہیں کر سکتا۔پھر نور ہے اس کا خاص کام ہے حضرت صاحب نے اس تحریک کو اٹھایا کہ حضرت بابا نانک مسلمان تھے۔اس اخبار نے اس خوبی سے اس تحریک کو چلایا ہے کہ مخالف بھی اس کی تعریف کرتے ہیں۔اور وہ لوگ بھی جو ہماری مخالفت میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اگر ہم کہیں خدا ہے تو وہ کہیں گے کہ اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی اور شق لگ جائے تب ہم مانیں گے وہ بھی اس کی تعریف کرتے ہیں۔اس اخبار کے بھی خریدار بہت تھوڑے ہیں جو افسوس کی بات ہے۔الفضل جو جماعت کے گزٹ کی حیثیت رکھتا ہے اس کی تو بہت خریداری ہونی چاہئے۔مگر ان دوسرے پر چوں کی بھی کم سے کم ایک ایک ہزار خریداری تو ہو اس سے کم نہیں ہونی چاہئے پہلے یہ حالت تھی کہ اگر اتنے آدمی سالانہ جلسہ پر آتے جتنے میرے سامنے فرش پر بیٹھے ہیں تو اس قدر خوشی ہوتی کہ حد ہی ہو جاتی۔دراصل اس وقت آدمیوں کی زیادتی خوشی کا باعث نہیں ہوتی تھی بلکہ تازہ بہ تازه نشان دیکھ کر ایمان بڑھتا تھا۔اس وقت حضرت صاحب نے رسالہ ریویو کی اشاعت کے لئے جو تحریک کی وہ دس ہزار کے لئے تھی۔اس سے اندازہ کر لو کہ اب کس قدر تعداد کے لئے تحریک ہونی چاہئے۔ہمارے دوست ریویو کی اشاعت کے لئے تحریک کیا کرتے ہیں کہ دس ہزار خریدار پیدا کر دو۔میں کہتا ہوں اب تو خدا کے فضل سے جماعت بہت بڑھ گئی ہے اب دس ہزار کے لئے نہیں بلکہ تمہیں چالیس ہزار کے لئے تحریک ہوئی چاہئے۔تو میں احباب کو نور کی مدد کے لئے تحریک کرتا ہوں اور ان کی کتاب کی خریداری کے لئے بھی جس کا نام ”بادا نانک کا مذہب " ہے۔یہ کتاب نہایت مفید اور تحقیق کے ساتھ لکھی گئی ہے۔سکھوں میں اس کی اشاعت بہت مفید ہو سکتی ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اس کی