انوارالعلوم (جلد 4) — Page 476
☐ م جلد ۴ اخبارات سلسلہ کے ایڈیٹر خطاب جلسہ سالانہ کے ۲ دسمبر ۱۹۱۹ء پھر خصوصیت سے کام کرنے والوں میں اخبارات کے ایڈیٹر ہیں جو خاص طور پر آپ لوگوں کی توجہ اور امداد کے مستحق ہیں۔کئی ایک ان میں سے ایسے ہیں کہ گو ظاہری طور پر ان کا گزارہ ہوتا نظر آتا ہے مگر ان کی آمدنی یا ان کے اخباروں کی جو اشاعت ہے اس سے ان کا شریفانہ طور پر گزارہ کرنا بھی مشکل ہے۔مگر باوجود اس کے انہوں نے اخبار جاری رکھے ہوئے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔اس لئے نہیں کہ انہیں بہت مال مل رہا ہے اور وہ بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ دین ن کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ایسا نہ ہو کہ چھوڑ دیں۔ورنہ ایک بھی ایسا اخبار نہیں کہ اس کا ایڈیٹر اس کے کام سے خاص طور پر مالی فائدہ اٹھا رہا ہو۔پس میں جہاں ان کی خدمات کا ذکر کرتا ہوں وہاں ان کی مدد کی طرف بھی آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔اور بڑے زور سے کہتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اس اشاعت دین کے آلہ کی طرف توجہ نہ کرنا سخت کو تا ہی ہے۔حضرت صاحب اخباروں کے متعلق کیا فرماتے اور ان کو کیا خطاب دیا ہوا تھا۔فرماتے بدر اور الحکم میرے دو بازو ہیں۔اور چونکہ بازوؤں کے ذریعہ ہی کام ہو سکتا ہے۔اس لئے اگر ان کی خبر گیری نہ کی گئی تو کام کس طرح ہو سکے گا۔پس میں آپ لوگوں سے اخباروں کی سفارش کرتا ہوں کہ آپ انہیں خریدیں اور ان کے ایڈیٹروں کی مدد کریں۔جو پڑھ سکتے ہیں وہ بھی اور جو خود نہیں پڑھ سکتے وہ بھی اخبار خریدیں اور دوسروں سے پڑھوا کر سنیں۔میں نے اس کے متعلق پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں مگر افسوس ہے کہ اس وقت تک بہت کم توجہ کی گئی ہے۔اب پھر میں سفارش کرتا ہوں ”الفضل " کی بھی کہ وہ ہماری جماعت کا آرگن ہے اس کی طرف توجہ کی جائے اور ریویو کی بھی۔حضرت صاحب نے اس کے متعلق جو کچھ کہا ہے میں اس سے زیادہ کیا کہہ سکتا ہوں۔پھر نور فاروق ، تشخیذ اور احکم ہیں۔یہ چاروں بہت عمدگی ، سے کام کرتے رہے ہیں۔الحکم کے متعلق اس لئے کہتا ہوں کہ وہ ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرح اس وقت تک اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔اس کا یہ استقلال بھی قابل تعریف ہے۔میں جانتا ہوں اس کی مالی حالت جو کچھ ہے۔اور یہاں تک جانتا ہوں کہ اس کے چلانے والوں کی بعض اوقات فاقوں تک نوبت پہنچ جاتی رہی ہے۔مگر انہوں نے اس حالت میں بھی ہمت نہیں ہاری اور خواہ چھ چھ ماہ اخبار نہ نکلے اس کے بند ہونے کا اقرار کبھی نہیں کیا تا یہ نہ کہا جاوے کہ حضرت صاحب کے وقت کا اخبار بند ہو گیا۔اگر اخبار چھ ماہ بھی نہ نکلے اور کوئی کہہ