انوارالعلوم (جلد 4) — Page 414
العلوم جلد من سم اسام خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء جا سکتا کہ جس طرح بابیوں کی ترقی ہوئی اسی طرح ہماری ہو رہی ہے۔کیونکہ ان کی کوئی مخالفت نہیں کرتا۔مگر ہماری مخالفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔مگر باوجود اس کے ہماری جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے۔اور ان کی نسبت جو ہمارے مقابلہ میں اپنے آپ کو حق پر اور حضرت مسیح موعود کی اصلی تعلیم پر سمجھتے ہیں ہماری ترقی بہت زیادہ ہو رہی ہے۔اور ایسی صورت میں ہو رہی ہے کہ وہ تو غیروں کو مسلمان کہتے ہیں اور ہم کافر قرار دیتے ہیں وہ ہمیں جاہل اجڈ بے دین خدائی سلسلہ کو تباہ کرنے والے خدا اور رسول کے دشمن بلکہ اپنی جانوں کے دشمن، عقل سے کورے اسلام میں سب سے بڑا تفرقہ ڈالنے والے قرار دیتے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے اور باوجود اس کے کہ وہ جو اپنے آپ کو ستون سمجھتے تھے نکل گئے ہیں اور ان کے خیال میں باقی چھڑیاں رہ گئی ہیں۔یہی چھڑیاں سارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں یا نہیں۔یہ خدا تعالی کی تائید ہے یا کہ کسی نواب یا راجہ سے چند سو روپیہ مل جانا خدائی تائید ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی اس طرح تائید خدا سے فیصلہ کرالیں کرتا تھا کہ آپ پر نئے نئے علوم اور معارف کھلتے تھے۔اور آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول کو بھی خدا تعالیٰ کی یہ تائید حاصل تھی۔اب میں فخر کے طور پر نہیں بلکہ اس عہدہ اور منصب کے احترام کے لئے جس پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے کہتا ہوں کہ خدا تعالی کی یہ تائید میرے ساتھ ہے۔اس وجہ سے میں نے مولوی محمد علی صاحب کو چیلنج دیا تھا۔کہ آئیں بالمقابل بیٹھ کر قرآن کریم کی کسی آیت یا رکوع کی تفسیر لکھیں۔اور دیکھیں کہ وہ کون ہے جس کے لئے خدا تعالٰی معارف اور حقائق کے دریا بہاتا ہے۔اور کون ہے جس کو خدا تعالٰی علوم کا سمندر عطا کرتا ہے۔میں تو ان کے نزدیک جاہل ہوں، کم علم ہوں، بچہ ہوں۔خوشامدیوں میں گھرا ہوا ہوں نا تجربہ کار ہوں۔پھر مجھ سے ان کا مقابلہ کرنا کون سا مشکل کام ہے۔وہ کیوں مرد میدان بن کر خدا تعالیٰ کی کتاب کے ذریعہ فیصلہ نہیں کر لیتے۔اور کیوں گیدڑوں اور لومٹریوں کی طرح چھپ چھپ کر حملے کرتے ہیں۔پھر کیوں خدا پر فیصلہ نہیں چھوڑتے اور خدا سے یہ دعا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ جو جھوٹا ہے اسے تباہ کر۔انسانی فیصلوں اور آراء کو جانے دو اور خدا کے سامنے آؤ تاکہ اس سے دعا کی جائے کہ جو جھوٹا ہے وہ ہلاک ہو جائے۔اور جو سچا ہے وہ بچ جائے۔کیا خدا تعالیٰ کا فیصلہ جھوٹا ہو سکتا ہے۔اگر نہیں تو