انوارالعلوم (جلد 4) — Page 415
العلوم جلد ۴ ۴۱۵ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء پھر کیوں خدا سے فیصلہ نہیں کرا لیا جاتا۔اور کیوں اس طرح تفرقہ نہیں مٹا دیا جاتا۔یہ طریق ہیں جن سے تفرقہ مٹ سکتا ہے۔اول خدا تعالٰی تفرقہ کے مٹانے کے طریق کی تائید دیکھو کس کے ساتھ ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ ان کی طرف سے اسی جگہ کہا گیا تھا کہ ہم تو جاتے ہیں۔لیکن چند ہی دنوں تک اس مدرسہ میں عیسائیوں کے بچے پھرتے نظر آئیں گے۔اب جب کہ پانچ سال گزر گئے ہیں۔بتاؤ اس مقام پر مسلمانوں کا قبضہ ہے یا عیسائیوں کا۔اور بتاؤ اس مسجد کے صحن میں حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں کتنے لوگ بیٹھتے تھے اور آج کتنے بیٹھے ہیں۔کیا یہ تائید الہی ہے یا نہیں۔ہم ان کے جاہل کم عقل وغیرہ کہنے سے چڑتے نہیں۔بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہی تو معجزہ ہے اور یہی ہماری صداقت کی دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود کو مخالف کہتے کہ جاہل ہیں، کچھ جانتے نہیں۔آپ فرماتے ہیں تو معجزہ ہے کہ میں اس حالت میں ایسی عربی لکھتا ہوں کہ کوئی دنیا کا بڑے سے بڑا عالم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تو ان لوگوں کے مجھے بچہ کہنے پر تم پڑا نہیں۔بلکہ کہو کہ یہی تو معجزہ ہے۔اگر وہ میرے متعلق یہ کہتے کہ بڑا تجربہ کار ہے۔فریبی ہے ، مکار ہے، تو ہو سکتا تھا کہ کہدیتے کہ اسی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔لیکن اب تو وہ یہ کہہ کر کہ نا تجربہ کار ہم عقل اور بچہ ہے۔اپنے ہاتھ آپ کاٹ چکے ہیں۔جو ہمیں کامیابی ہو رہی ہے وہ کسی ہماری کوشش اور ہمت کا نتیجہ نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہو رہی ہے۔اور وہ بتا رہا ہے کہ جن کو تم کچھ نہیں سمجھتے۔ان سے خدا اس طرح سے کام لیا کرتا ہے۔تو ان لوگوں نے مجھے بچہ اور جاہل قرار دے کر اپنی ناکامی اور نامرادی پر خود دستخط کر دیئے۔کیونکہ یہ کہہ کر انہوں نے تسلیم کر لیا کہ اس کے ذریعہ جو ترقی ہو رہی ہے۔وہ اس کی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔پس جب ہماری ترقی خدا کی طرف سے ہے تو کون ہے جو اسے روک سکے۔اب زمانہ بدل گیا ہے۔دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا۔اسے دشمنوں نے انتقام لینے کا زمانہ صلیب پر چڑھایا۔مگراب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔اسی طرح پہلے جو آدم آیا وہ جنت سے نکلا تھا۔مگر اب جو آدم آیا وہ اس لئے آیا کہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے۔اسی طرح پہلے یوسف کو قید میں ڈالا گیا تھا۔مگر دوسرا یوسف قید سے نکالنے کے لئے آیا ہے پہلے خلفاء میں سے بعض جیسے عثمان رضی اللہ عنہ اور