انوارالعلوم (جلد 4) — Page 413
م جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء لکھوایا کہ حضرت مرزا صاحب کی اولاد میں سے ایک نے تو یہ کتاب لکھی ہے۔جو میں تمہاری طرف بھیجتا ہوں۔تمہاری اولاد میں سے کسی نے کوئی کتاب لکھی ہو تو مجھے بھیج دو۔اس کتاب میں حضرت مسیح موعود کو نبی لکھا گیا ہے۔تو ہم پہلے بھی حضرت مسیح موعود کو نبی لکھتے تھے اور اب بھی لکھتے ہیں۔مگر وہ لوگ پہلے نبی لکھتے تھے اور اب نہیں لکھتے۔جس ظاہر ہے کہ ہم نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔لیکن ان لوگوں نے اپنے طریق عمل میں تبدیلی کرلی ہے اس کے سوا ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید کس کے ساتھ ہے جو سلسلے ہوتے ہیں۔ان کے لئے کچھ ایسے امور بھی ہوتے ہیں جن سے وہ قائم رہتے اور دن بدن ترقی کرتے ہیں۔اب اگر غیر مبائعین حضرت مرزا صاحب کے بچے قائم مقام ہیں تو اللہ تعالیٰ کی وہ تائید جو حضرت مسیح موعود کو میسر تھی ان کے ساتھ ہونی چاہئے۔اور اگر ہم ہیں تو ہمارے ساتھ ہونی چاہئے۔ان کی طرف سے اپنی کامیابی بتانے کے لئے اگر کچھ کہا جاتا ہے تو وہ یہ کہ فلاں غیر احمدی نے ہمیں اتنا روپیہ دیا۔ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو کون غیر احمدی روپے دیا کرتا تھا۔کیا خدا تعالیٰ نے آپ کی کبھی تائید کی یا نہیں۔اگر کی تو کیا اس طرح کہ نواب حیدر آباد نے یا بیگم بھوپال نے آپ کا ماہانہ مقرر کر دیا۔یا کسی سرحدی نواب نے آپ کو کوئی رقم دے دی۔اگر حضرت مسیح موعود کے ساتھ ایسا ہوا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح حضرت مسیح موعود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید تھی اس طرح ہمارے ساتھ ہے۔لیکن اگر اس طرح حضرت مسیح موعود کی تائید نہیں ہوئی تو اب تمہیں بھی اسے اپنی تائید میں پیش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔اب کوئی نیا امام نہیں آیا کوئی نئی جماعت قائم نہیں ہوئی۔اس لئے اسی طرح جماعت کی تائید ہونی چاہئے جس طرح حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہوئی اور وہ یہی تھی کہ آپ ایک تھے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ ہزاروں لاکھوں انسان کر دیئے۔اب دیکھئے کہ خود حضرت مسیح موعود اسے خدا تعالیٰ کی تائید کہتے ہیں یا نہیں۔اور پھر قرآن کریم میں یہ لکھا ہے یا نہیں کہ جن کی مخالفت ہو اور عالمگیر مخالفت ہو ان کا ترقی کرنا اور اپنے دشمنوں پر غالب آنا ان کے حق پر ہونے کی دلیل ہے۔اور کیا اس دلیل کو حضرت مسیح موعود نے اپنی صداقت میں پیش کیا ہے یا نہیں۔اگر کیا ہے اور ضرور کیا ہے تو اس سے اب بھی ہماری صداقت معلوم ہو سکتی ہے۔ہمارے متعلق یہ نہیں کہا