انوارالعلوم (جلد 4) — Page 379
عرفان انی دفعہ انسان ایک نیک کام کرتا ہے اور نیک ارادہ سے ہی کرتا ہے۔مگر اس کے پورا کرنے کے لئے ایسے ذرائع استعمال کرتا ہے جو درست نہیں ہوتے۔یا اس نیک کام کو ان شرائط کے ساتھ پورا نہیں کرتا جن سے ان کا پورا کرنا اس کے لئے ضروری تھا۔پس جب یہ ہر ایک کام کے درمیان میں اپنے نفس سے سوال کریگا کہ تو کس طرح یہ کام کر رہا ہے۔تو اس سوال کے جواب سے اگر کوئی غلطی اس کے طریق عمل میں ہو گی تو نکل جائیگی۔اس کے بعد تیسرا اور آخری محاسبہ ہے جو کسی کام کے ختم ہونے پر کیا جاتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اپنے نفس سے سوال کرے کہ اس کام کا اثر اس کے دل پر کیا پڑا ہے۔اس سوال کی یہ ضرورت ہے کہ بعض دفعہ انسان نیکی کرتا ہے۔اور نیک ذرائع سے کرتا ہے مگر اسے کر چکنے کے بعد اس کے دل میں عجب اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ تباہ ہو جاتا ہے۔پس نیکی کرنے کے بعد جب وہ اپنے نفس کو ٹولے گا کہ اس پر اس کا کیا اثر ہوا ہے۔تو اگر اس پر فخر اور بڑائی کا کوئی اثر ہوا ہو گا اس سے پیشتر کہ وہ بڑھ کر درخت بن جاوے یہ واقف ہو جاویگا۔اور اپنے نفس کو ملامت کریگا اور اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیگا۔اور اگر یہ دیکھے گا کہ اس کا اثر اس کے دل میں یہ پیدا ہوا ہے کہ اور بھی بجز اور تذلل پیدا ہو گیا ہے تو پہلے عمل کے نیک اثر کو دیکھ کر اور زیادہ نیکیوں کی طرف رغبت کریگا۔اور ان کی طرف اور بھی شوق سے قدم بڑھائے گا۔غرض محاسبہ تین قسم کا ہے۔پہلا محاسبہ یہ ہے کہ ارادہ آنے پر سوال کرے کہ میں یہ کام کس غرض سے اور کس کے لئے کرتا ہوں۔یہ محاسبہ ابتدائیہ ہو گا۔دوسرا محاسبہ یہ ہے کہ جب کام شروع کر دے اس وقت سوال کرے کہ میں اس کام کو کس طرح کرتا ہوں یہ محاسبہ وسطی ہو گا۔تیسرا محاسبہ یہ ہے کہ جب کر چکے تو نفس سے پوچھے کہ تجھ پر اس کا کیا اثر ہوا ہے۔یہ محاسبہ اخریٰ ہو گا۔اگر انسان ان سوالات پر عمل شروع کر دے تو کچھ عرصہ کے بعد اسے ایسی عادت ہو جائیگی کہ خود بخود نفس سے ہر عمل پر سوال پیدا ہوتے جائینگے۔یہ محاسبہ اجزائے اعمال کے متعلق ہے۔دوسری قسم محاسبہ کی کلی محاسبہ ہے۔یہ اکٹھا ایک دفعہ سب اعمال پر کرنا بہت مشکل ہے۔کیونکہ انسان کو اپنے اعمال بھول جاتے ہیں اور چونکہ یہ محاسبہ اس قدر وسیع ہے کہ تمام اعمال پر حاوی ہے۔اس لئے کئی اعمال چھوٹ جائینگے۔خدا تعالٰی بھی بتاتا ہے کہ انسان کی نظر کس قدر کمزور ہے فرماتا ہے۔لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَ كَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدُ (ق : (۲۳) یعنی دنیا میں تجھے یہ باتیں بھولی ہوئی تھیں۔اب تجھے خوب یاد آگئی