انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 378

وم جلد " عرفان الهی کے ساتھ ہی چیزوں کی نیکی یا بدی وابستہ ہے۔جب اس کا نفس اس کے سوال کا جواب دیگا اور اس کام کی برائی اس پر ظاہر ہو گی تو خود بخود اس کے دل میں شرمندگی پیدا ہو گی اور نفس کا جوش ٹھنڈا پڑ جاویگا۔کیونکہ شرمندگی اور ندامت سے نفس کا جوش ٹھنڈا پڑ جایا کرتا ہے۔مثلاً چوری ہے۔اس کے ارتکاب کا جب خیال پیدا ہو تو اپنے آپ سے سوال کرے کہ میں کیوں کرنے لگا ہوں؟ کے کا مال حاصل کرنے کے لئے۔اس پر سوال کر سکتا ہے۔کیا مال حاصل کرنے کے خدا نے اور ذریعے نہیں بنائے کہ میں دوسرے کا مال بلاوجہ لوٹتا ہوں اور اگر میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ کوئی کرے تو میں اسے کیسا نا پسند کرونگا۔اس طرح اس کا نفس لاجواب ہو جائیگا اور وہ چوری کرنے سے رک جائیگا۔تو یہ پہلا محاسبہ ہے جو کسی کام کے کرنے سے پہلے نفس سے کرنا چاہئے۔ہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بعض اوقات جب کسی فعل کے متعلق نفس سے سوال کیا جائیگا۔تو وہ جواب دیگا کہ یہ نیکی ہے۔لیکن اس پر اگر جرح کی جاویگی تو پکڑا جائیگا اور شرمندہ ہو گا۔تو بہت سے گناہ پہلے ہی سوال پر چھوٹ جائیں گے۔اور بہت سے دوسرے تیسرے پر۔لیکن کبھی ایسا ہو گا کہ اس محاسبہ کے بعد معلوم ہو گا کہ جو کام یہ کرنے لگا ہے وہ نیکی ہے اور اس کے اور دوسروں کے لئے موجب نفع ہے۔اس وقت بھی یہ محاسبہ کو ختم نہ کرے بلکہ محاسبہ اولیٰ کی دوسری شق سے کام لے اور وہ یہ ہے کہ (۲) اپنے نفس سے سوال کرے کہ یہ کام میں کس کی خاطر کرتا ہوں۔اس سوال کے جواب سے اسے معلوم ہو گا کہ کئی باتیں جو بظاہر نیک معلوم ہوتی تھیں در حقیقت بدیاں تھیں۔مثلاً نماز پڑھتے وقت یا صدقہ دیتے وقت یا احسان کرتے وقت پہلے محاسبہ کے جواب میں اس کا نفس ثابت کریگا کہ یہ سب کام مفید ہیں۔لیکن اگر ریاء اور سمعت کے لئے اس نے یہ کام کرنے چاہے تھے۔تو دوسرے سوال کے جواب پر کہ میں یہ کام کس کی خاطر کرنے لگا ہوں وہ مجبہ نیکی کا جو نفس نے ان کاموں کو پہنایا تھا اتر جاویگا اور اسے معلوم ہو جاویگا کہ یہ نیکی بھی بدی تھی۔اور فورا یہ اپنے ارادہ کو بدل کر محض خدا کے لئے یا بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے اس کام کے کرنے کی نیت کرلیگا۔اور بدی کو نیکی سے بدل دیگا۔اس ابتدائی محاسبہ کے بعد پھر کام کے شروع کرنے پر دوسرا محاسبہ ہوتا ہے۔اس محاسبہ کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔اس محاسبہ کا یہ طریق ہے کہ ہر ایک کام کے دوران یہ سوال اپنے نفس سے کرے کہ میں یہ کام کس طرح کرتا ہوں۔یعنی اس کو تحمیل پر پہنچانے کے لئے کن ذرائع کو استعمال کرتا ہوں۔اس محاسبہ کی یہ ضرورت ہے کہ بہت