انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 380

عرفان الهی ہیں۔اس لئے کوئی ایسی ترکیب ہونی چاہئے کہ انسان تمام اعمال کا آسانی سے محاسبہ کر سکے اور کوئی عمل اس سے چھوٹ نہ جائے۔اس کے لئے اول ترکیب طبعی تو یہ ہے کہ اعمال کو تقسیم کر دیں۔مثلا نیکیوں کی تقسیم اس طرح ہو سکتی ہے کہ اول وہ جو خدا کے متعلق ہیں۔دوم وہ جو اپنے نفس کے متعلق ہیں۔سوم وہ جو دوسری مخلوق کے متعلق ہیں اسی طرح بدیوں کے متعلق تقسیم ہو سکتی ہیں۔اس تقسیم کو مد نظر رکھ کر جب محاسبہ کیا جائیگا تو بہت سی باتیں یاد آجائینگی۔اعمال کی اور کئی طرح بھی تقسیم کی جا سکتی ہے۔مثلاً اعمال اعمال حسنہ کی چار قسمیں میں حسنہ چار قسم کے ہوتے ہیں۔اول وہ اعمال جن سے انسان کو خود بھی فائدہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔مگر بعض اوقات انسان ضد میں آکر انہیں نہیں کرتا اس کے متعلق دیکھے کہ مجھ سے کوئی اس طرح کا کام تو نہیں رہ گیا۔دوم وہ اعمال ہوتے ہیں جن سے انسان کو خود تو نفع نہیں ہو تا مگر دوسروں کو ہوتا ہے۔سوم وہ اعمال ہوتے ہیں جن کے نہ کرنے سے اپنے آپ کو تو نہ نفع ہوتا ہے اور نہ نقصان لیکن دوسرے کا نقصان ہوتا ہے۔چہارم وہ اعمال ہوتے ہیں کہ ان سے اپنا تو کوئی نقصان ہوتا ہے لیکن دوسرے کو فائدہ ہوتا ہے ان اعمال کو اگر انسان الگ الگ کر کے دیکھے تو اسے محاسبہ میں بہت آسانی ہو سکتی ہے۔اسی طرح نہی کے متعلق کیا جا سکتا ہے۔اس تبویب سے ایک عظیم الشان فائدہ یہ بھی اعمال کا محاسبہ کرنے کا آسان طریق ہو گا کہ انسان کو اعمال کی جڑ اور شاخوں کا پتہ لگ جائیگا۔اور جب کسی عمل میں نقص پیدا ہو جائیگا تو آسانی کے ساتھ اس کی اصلاح کر سکے گا۔مگر اس طرح محاسبہ کرنے کی بھی ہر شخص میں طاقت نہیں ہوتی۔اس لئے آسان ترکیب بتاتا ہوں۔اور وہ یہ کہ بجائے اس کے کہ انسان سال کے بعد اپنے اعمال کا محاسبہ کرے یا چھ ماہ یا چار ماہ یا ایک ماہ بعد اس طرح کرے کہ قرآن کریم کے اوامر اور نواہی پر نشان لگا لے۔اور پھر عہد کرے کہ روزانہ ایک دو تین یا جتنے رکوع پڑھ سکے پڑھا کرے۔اور پڑھتے وقت اس بات کی احتیاط رکھے کہ طوطے کی طرح نہ پڑھے۔بلکہ اوامر اور نواہی پر غور کرے اور روزانہ پڑھتے وقت جس حکم کا ذکر آوے اس پر سوچے کہ کیا میں یہ کام کرتا ہوں۔اور جس نہی کا ذکر آوے۔اس پر غور کرے کہ کیا میں اس سے باز رہتا ہوں۔اس طرح بآسانی محاسبہ ہو جائیگا۔