انوارالعلوم (جلد 4) — Page 285
۲۸۵ اسلام میں اخر اختلافات کا آغاز ہے۔اور آپ کے بھیجے ہوئے معتبروں نے سب لوگوں سے حالات دریافت کئے۔ایک شخص بھی ان کے سامنے آکر ان شکایات کی صحت کا جو بیان کی جاتی ہیں مدعی نہیں ہوا۔پھر شک کی کیا گنجائش ہے۔خدا کی قسم ہے کہ ان لوگوں نے سچ سے کام نہیں لیا اور نہ تقوی اللہ سے کام لیا ہے۔اور ان کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔ایسی بے بنیاد باتوں پر گرفت جائز نہیں ہو سکتی نہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے۔اس پر مختلف مشورے آپ کو دیئے گئے۔جن سب کا ماحصل یہی تھا کہ آپ سختی کے موقع پر سختی سے کام لیں اور ان فسادیوں کو اس قدر ڈھیل نہ دیں۔اس سے ان میں اور دلیری پیدا ہوتی ہے۔شریر صرف سزا سے ہی درست ہو سکتا ہے نرمی اس سے کرنی چاہئے جو نرمی سے فائدہ اٹھائے۔حضرت عثمان نے سب کا مشورہ سن کر فرمایا۔جن فتنوں کی خبر رسول کریم ﷺ دے چکے ہیں وہ تو ہو کر رہیں گے ہاں نرمی سے اور محبت سے ان کو ایک وقت تک روکا جا سکتا ہے۔پس میں سوائے حدود اللہ کے ان لوگوں سے نرمی ہی سے معاملہ کروں گا تاکہ کسی شخص کی میرے خلاف حجت حقہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں سے بھلائی میں کوئی کمی نہیں کی۔مبارک ہو عثمان کے لئے اگر وہ فوت ہو جاوے اور فتنوں کا سیلاب جو اسلام پر آنے والا ہے وہ ابھی شروع نہ ہوا ہو۔پس جاؤ اور لوگوں سے نرمی سے معاملہ کرو اور ان کے حقوق ان کو دو اور ان کی غلطیوں سے در گزر کرو۔ہاں اگر اللہ تعالٰی کے احکام کو کوئی توڑے تو ایسے شخصوں سے نرمی اور عفو کا معاملہ نہ کرو۔حج سے واپسی پر حضرت معاویہ بھی حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے کچھ دن ٹھہر کر واپس جانے لگے تو آپ نے حضرت عثمان سے علیحدہ مل کر درخواست کی کہ فتنہ بڑھتا ہوتا ہے۔اگر اجازت ہو تو میں اس کے متعلق کچھ عرض کروں۔آپ نے فرمایا کہو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اول میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ شام چلے چلیں کیونکہ شام میں ہر طرح سے امن ہے اور کسی قسم کا فساد نہیں ایسا نہ ہو کہ یک دم کسی قسم کا فساد اٹھے اور اس وقت کوئی انتظام نہ ہو سکے۔حضرت عثمان نے ان کو جواب دیا کہ میں رسول کریم ﷺ کی ہمسائیگی کو کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا خواہ جسم کی دھجیاں اڑا دی جائیں۔حضرت معاویہ نے کہا کہ پھر دوسرا مشورہ یہ ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ایک دستہ شامی فوج کا آپ