انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 284

رالعلوم جلدم ۳۸۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز نسبت آپ نے فتح مکہ کے وقت حکم دیا تھا کہ خواہ خانہ کعبہ ہی میں کیوں نہ ملے اسے قتل کر دیا جائے۔اور گو بعد میں آپ نے اسے معاف کر دیا مگر اس کی پہلی مخالفت کا بعض صحابہ کے دل پر جن میں عمار بھی شامل تھے اثر باقی تھا پس ایسے شخص کے خلاف باتیں سن کر عمار بہت جلد متأثر ہو گئے اور ان الزامات کو جو اس پر لگائے جاتے تھے صحیح تسلیم کر لیا اور احساس طبعی سے فائدہ اٹھا کر سبائی یعنی عبداللہ بن سبا کے ساتھی اس کے خلاف اس بات پر خاص زور دیتے تھے۔پس حضرت عثمان کی نیک نیتی اور اخلاص کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ باوجود اس کے کہ سوائے ایک شخص کے سب وفدوں نے حکام کی بریت کا فیصلہ دیا تھا۔حضرت عثمان نے اس ایک مخالف رائے کی قدر کر کے ایک خط تمام علاقوں کے لوگوں کی طرف بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ میں جب سے خلیفہ ہوا ہوں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر میرا عمل ہے اور میرے رشتہ داروں کا عام مسلمانوں سے زیادہ کوئی حق نہیں۔مگر مجھے مدینے کے رہنے والے بعض لوگوں سے معلوم ہوا ہے کہ حکام لوگوں کو مارتے اور گالیاں دیتے ہیں اس لئے میں اس کے خط کے ذریعے سے عام اعلان کرتا ہوں کہ جس کسی کو خفیہ طور پر گالی دی گئی ہو یا پیٹا گیا ہو وہ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے اور جو کچھ اس پر ظلم ہوا ہو خواہ میرے ہاتھوں سے خواہ میرے عاملوں کے ذریعے سے اس کا بدلہ وہ مجھ سے اور میرے نائیوں سے لے لے یا معاف کر! دے۔اللہ تعالٰی صدقہ دینے والوں کو اپنے پاس سے جزاء دیتا ہے۔یہ مختصر لیکن درد ناک خط جس وقت تمام ممالک میں منبروں پر پڑھا گیا تو عالم اسلام ایک سرے سے دو سرے سرے تک ہل گیا اور سامعین بے اختیار رو پڑے اور سب نے حضرت عثمان کے لئے دعائیں کیں اور ان فتنہ پردازوں پر جو اس ملت اسلام کے درد رکھنے والے اور اس کا بوجھ اٹھانے والے انسان پر حملہ کر رہے تھے اور اس کو دکھ دے رہے تھے اظہار افسوس کیا گیا۔(طبری جلد نمبر صفحہ ۲۹۴۴ مطبوعہ بیرات) حضرت عثمان نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنے عمال کو ان الزامات کے جواب دینے کے لئے جو ان پر لگائے جاتے تھے خاص طور پر طلب کیا۔جب سب والی جمع ہو گئے تو آپ نے ان کی سے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ لوگوں کے خلاف الزام لگائے جاتے ہیں۔مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں یہ باتیں درست ہی نہ ہوں۔اس پر ان سب نے جواب میں عرض کیا کہ آپ نے معتبر آدمیوں کو بھیج کر دریافت کرا لیا ہے کہ کوئی ظلم نہیں ہوتا۔نہ خلاف شریعت کوئی کام ہوتا