انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 286

م جلد ۴ ۲۸۶ اسلام میں اختلافات کا آغاز کی حفاظت کے لئے بھیج دوں۔ان لوگوں کی موجودگی میں کوئی شخص شرارت نہیں کر سکے گا حضرت عثمان نے جواب دیا کہ نہ میں عثمان کی جان کی حفاظت کے لئے اس قدر بوجھ بیت المال پر ڈال سکتا ہوں اور نہ یہ پسند کر سکتا ہوں کہ مدینہ کے لوگوں کو فوج رکھ کر تنگی میں ڈالوں۔اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کی کہ پھر تیسری تجویز یہ ہے کہ صحابہ کی موجودگی میں لوگوں کو جرأت ہے کہ اگر عثمان نہ رہے تو ان میں سے کسی کو آگے کھڑا کر دیں گے۔ان لوگوں کو مختلف ملکوں میں پھیلا دیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کو رسول کریم نے جمع کیا ہے میں ان کو پراگندہ کر دوں۔اس پر معاویہ رو پڑے اور عرض کی کہ اگر ان تدابیر میں سے جو آپ کی حفاظت کے لئے میں نے پیش کی ہیں آپ کوئی بھی قبول نہیں کرتے تو اتنا تو کیجئے کہ لوگوں میں اعلان کر دیجئے کہ اگر میری جان کو کوئی نقصان پہنچے تو معاویہ کو میرے قصاص کا حق ہو گا۔شاید لوگ اس سے خوف کھا کر شرارت سے باز رہیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ معاویہ " ! جو ہوتا ہے ہو کر رہے گا میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کی طبیعت سخت ہے ایسا نہ ہو آپ مسلمانوں پر سختی کریں اس پر حضرت معاویہ روتے ہوئے آپ کے پاس سے اٹھے اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ آخری ملاقات ہو۔اور باہر نکل کر صحابہ سے کہا کہ اسلام کا دارو مدار آپ لوگوں پر ہے حضرت عثمان اب بالکل ضعیف ہو گئے ہیں اور فتنہ بڑھ رہا ہے آپ لوگ ان کی نگہداشت رکھیں۔یہ کہہ کر معاویہ شام کی طرف روانہ ہو گئے۔صوبہ جات کے عمال کا اپنے اپنے علاقوں سے غائب رہنا ایسا موقع نہ تھا جسے عبداللہ بن سبا نہی جانے دیتا۔اس نے فوراً چاروں طرف ڈاک دوڑا دی کہ یہ موقع ہے اس وقت ہمیں کچھ کرنا چاہیئے ایک دن مقرر کر کے یکدم اپنے اپنے علاقہ کے امراء پر حملہ کر دیا جائے مگر ابھی مشورے ہی ہو رہے تھے کہ امراء واپس آگئے۔دوسری جگہوں کے سبائی تو مایوس ہو گئے مگر کوفہ کے سبائی (یعنی عبداللہ بن سبا کے ساتھی) جو پہلے بھی عملی فساد میں سب سے آگے قدم رکھنے کے عادی تھے انہوں نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔یزید بن قیس نامی ایک شخص نے مسجد کوفہ میں جلسہ کیا اور اعلان کیا کہ اب حضرت عثمان کو خلافت سے علیحدہ کر دینا چاہئے۔قعقاع بن عمرو جو اس جگہ کی چھاؤنی کے افسر تھے انہوں نے سنا تو آکر اسے گرفتار کرنا چاہا۔وہ ان کے سامنے عذر کرنے لگا کہ میں تو اطاعت سے باہر نہیں ہوں۔ہم لوگ تو اس لئے جمع