انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 133

انوار العلوم جلد ۴ ١٣٣ علم حاصل کرو ہو جائے گا تو بھی یہ اس کی نادانی ہوگی اور اس کی محبت اور الفت پر ایک سخت دھبہ ہو گا کہ باوجود راستہ کے کھلا ہونے کے اتنی دیر بعد وہ اندر داخل ہوا ہے۔پس آپ لوگوں میں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ وہ اس دروازہ کو چھوڑ کر جو حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم کے معارف کا کھولا ہے خود کوئی دروازہ کھول لے گا اور اس طرح داخل ہو جائے گا بلکہ اب داخل ہونے کا یقینی اور آسان ذریعہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود" ہی کے کھولے ہوئے دروازہ کے راستہ سے داخل ہوا جائے۔آپ لوگوں کے اندر خدا تعالٰی نے جوش رکھا ہے اور جوش دینا جماعت احمدیہ میں جوش بھی خدا تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔عام لوگ تو کہتے ہیں کہ جوش ایک دل کا فعل ہے مگر میں کہتا ہوں یہ بھی خدا ہی کا فضل ہے پس یہ جوش جو خدا نے تمہیں دیا ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے ذریعہ اس جوش کا جو ہماری جماعت میں خدا تعالٰی نے رکھا ہے کس طرح اظہار ہوتا ہے۔رات کو میں نے ایک شخص کے چند الفاظ سنے جو مجھے بہت ہی پیارے معلوم ہوئے اور اسی وقت میں نے لکھ لئے وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا۔”لے بھائی اسماعیلا بھاویں پالے ہی مرجائیے پر رہنا ایتھے ہی ہے۔آئے ہاں کا ہرے واسطے۔" اس کا ساتھی اُسے کہہ رہا تھا کہ آباہر چل کر رہیں جہاں ہمارے ٹھرنے کا انتظام کیا گیا ہے مگر وہ کہہ رہا تھا کہ میں تو خواہ سردی سے مرہی جاؤں تو بھی اسی مسجد (مسجد مبارک) میں رہوں گا۔یہی فقرہ میرے جیسے انسان کیلئے یہ معلوم کرنے کیلئے کافی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لوگوں میں کس قدر جوش اور اخلاص رکھا ہے۔میں ان الفاظ کا دیر تک لطف لیتا رہا اور خدا تعالی کا شکر کرتا رہا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہماری جماعت میں نناوے فیصدی لوگ ایسے ہیں جن میں ایسا ہی جوش پایا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے پس اس کو ضائع نہ کرنا چاہئے بلکہ اس سے کام لینا چاہئے۔خدا تعالیٰ کو یہ پسند نہیں آتا کہ اس کی طرف سے جو انعام ہو اس سے کام نہ لیا جاوے۔آپ لوگوں میں اس نے اپنے فضل سے جوش تو پیدا کر دیا ہے اب سوال یہ ہے کہ تمہیں اسے کس طرح استعمال کرنا جوش سے کام لو