انوارالعلوم (جلد 4) — Page 134
انوار العلوم جلدم ۱۳۴ علم حاصل کرو چاہئے۔دیکھو یورپین لوگوں نے کس طرح خدا تعالی کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو استعمال کر کے ان سے بڑے بڑے عظیم الشان فوائد حاصل کئے ہیں۔یہ ریل گاڑی کیا ہے لوہے اور لکڑی کی بنی ہوئی ہے جس کو آگ اور پانی کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔یہ وہی آگ ہے جو شہروں کو جلا کر خاک سیاہ کردیتی ہے مگر اس کو ایک قاعدہ کے ماتحت استعمال کر کے ہزاروں اور لاکھوں میل تک انسانوں اور مال و اسباب کو پہنچایا جاتا ہے۔پھر دیکھو یہی موم اور لکڑی ہے جس میں ایک قاعدہ کے ماتحت ترکیب دے کر آواز کو محفوظ کیا جاتا اور دوسروں تک پہنچایا جاتا ہے، اسی طرح یہی لوہا تیزاب اور پیتل ہے کہ جس کے ذریعہ دور دراز جگہ تک خبر پہنچائی جاتی ہے، پھر یہی ہوا ہے جس کو ایسے طریق سے استعمال کیا جاتا ہے کہ بغیر تار کے لاکھوں میل تک خبریں پہنچائی جاتی ہیں۔تو خدا تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو باقاعدہ استعمال کرنے سے بڑے بڑے عظیم الشان نتائج پیدا ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو جوش دیا ہے اس لئے آپ کا فرض ہے کہ اس سے روحانی ریل، فونوگراف اور تار برقی بنائیں اور دنیا میں چلائیں اور صحیح طور پر چلائیں۔دیکھو جب دریاؤں سے قاعدہ کے ماتحت نہریں نکالی جاتی ہیں تو وہ تو وہ ملکوں کو شاداب بنادیتی ہیں مگر جب کوئی دریا بے قاعدہ طور پر ٹوٹتا ہے تو ہزاروں گاؤں اور بستیوں کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔پس تمہیں خدا تعالی نے جو انعام دیا ہے اسے اگر قاعدہ کے ماتحت استعمال کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے اور اگر بے قاعدہ استعمال کرو گے تو نقصان پاؤ گے۔کسی بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے ایک لڑکے کو دیکھ کر اس کے چہرہ کی بناوٹ اور امنگ سے اندازہ لگایا کہ یہ یا تو خطرناک اور پاجی انسان ہوگا یا بڑا ولی اللہ اور متقی ہو گا۔یعنی اگر اس نے اپنے جوش اور امنگ کو صحیح طور پر استعمال کیا تو نیکی اور تقویٰ میں بڑھ جائے گا اور اگر غلط طریق سے استعمال کیا تو نہایت خطرناک انسان ہو جائے گا کیونکہ جوش اور امنگ کے یہی دو نتیجے نکلا کرتے ہیں۔جس طرح بے قاعدہ بھڑکی ہوئی آگ ارد گرد کی چیزوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے مگر باقاعدہ جلائی ہوئی آگ بڑے بڑے فوائد پہنچاتی ہے اسی طرح انسانی جوش اگر باقاعدہ استعمال کیا جائے تو ایسے ایسے تغیرات پیدا کر دیتا ہے کہ جن کی نظیر دنیا میں موجود نہیں ہوتی لیکن اگر بے قاعدہ برتا جائے تو ایسے ایسے خطرناک مفاسد اور فتنے پیدا کرتا ہے کہ وہ بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے۔آپ لوگوں میں جوش تو موجود ہے اب یہ آپ کا اختیار ہے کہ چاہے اسے دین کے سیکھنے ، اسلام کے پھیلانے اور حق کی اشاعت کرنے میں لگادیں، چاہے۔