انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 132

انوار العلوم جلدم ۱۳۲ علم حاصل کرو جائے لیکن اب جبکہ آپ کے ذریعہ شریعت مکمل ہو چکی ہے تو کسی کا یہ کہنا کہ میں اپنے طور پر ہی دین کے احکام سے واقف ہو جاؤں گا اور خدا کو پالوں گا درست نہیں ہو سکتا۔پاڑ کے ذریعہ معمار ہی چڑھا کرتا ہے تاکہ عمارت کو مکمل کرے اور شریعتِ اسلام کی عمارت کو مکمل کرنے والا معمار حضرت محمد اللہ ہی تھا اس لئے وہی اس ذریعہ سے چڑھا۔آپ کے ذریعہ چونکہ وہ عمارت تکمیل کو پہنچ گئی اس لئے پاڑ اتار لی گئی اب اگر کوئی اس عمارت میں اپنے ہاتھ سے کیلے ٹھونک کر اوپر چڑھتا جائے گا تو وہ ناکام اور نامراد ہی رہے گا اور مستوجب سزا ہوگا۔اس کیلئے ضروری ہے کہ قرآن کریم سیکھے اور اس ذریعہ سے اوپر چڑھے۔اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ جس طرح بغیر کسی سے پڑھے حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم کے معارف حاصل کرلئے تھے اسی طرح میں بھی خود بخود سیکھ لوں گا کیونکہ حضرت مرزا صاحب کے وقت قرآن کریم کے وہ معارف اور معانی جو رسول کریم کے ذریعہ حاصل ہوئے تھے مٹ چکے تھے اور ان پر ظلمت اور جہالت کی سینکڑوں من مٹی پڑ چکی تھی۔رسول کریم کے وقت اسلام کی مثال تو ایک عمارت کی تھی اور حضرت مرزا صاحب کے وقت وہ ایک گنبد کی کہ جس کا دروازہ مٹی سے بند ہوچکا تھا اور آپ نے آکر کھولا۔اب جبکہ دروازہ کھل گیا ہے تو کسی کا یہ کہنا کہ میں اس دروازہ کے ذریعہ اس کے اندر داخل نہیں ہوں گا بلکہ ایک طرف سے دیوار توڑ کر خود دروازہ بناؤں گا حد درجہ کی نادانی اور جہالت ہے۔اب اسی راستہ سے کوئی داخل ہو سکتا ہے جو حضرت مرزا صاحب نے کھولا ہے پس آپ میں سے کوئی یہ مت خیال کرے کہ میں اپنے طور پر ہی بغیر کسی سے علم سکھے اور حضرت مسیح موعود کی کتابوں کے پڑھے بغیر قرآن کریم کے معارف سے آگاہ ہو جاؤں گا۔تم خود ہی سوچو یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے کہ ایک دروازہ جو کھلا ہوا ہے اس سے تو کوئی داخل نہ ہو مگر خود دیوار توڑ کر دروازہ بنانے کی مشقت کا بار اٹھائے۔یا ایک مکان کے اندر کسی کا محبوب اور پیارا بیٹھا ہو جسے دیکھنے کی اسے سخت تڑپ ہو اور ایک شخص آکر دروازہ کھول دے اور اسے کہے کہ اندر آجاؤ مگر وہ اس دروازہ سے تو اندر نہ آئے اور کہے کہ میں خود نیا دروازہ نکال کر اندر آؤں گا کیا یہ بات اس کی محبت اور تڑپ کا ثبوت ہوگی۔ہرگز نہیں بلکہ محض نادانی اور جہالت ہوگی کیونکہ بلاوجہ وہ اپنے اوپر مشقت کا بوجھ رکھتا ہے اور اس طرح اس کا اندر داخل ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔لیکن اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ وہ اس طرح داخل