انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 583

انوار العلوم جلد۔۵۸۳ ترقی اسلام کے بارہ میں ارشاد کام زیادہ اور بوجھ بھاری تھا۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ خاص طور پر اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جماعت کا ایک بڑا حصہ اس ذمہ داری کو سمجھتا اور اس کے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ پچھلے جلسہ نے اس بات کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں اللہ تعالٰی نے وہ اخلاص رکھا ہے اور دین کی ایسی محبت بخشی ہے کہ جس کی نظیر صحابہ کے زمانہ کے سوا اور کہیں نہیں ملتی۔پچھلے سالانہ جلسہ میں میں نے خاص طور پر جماعت کو متوجہ کیا تھا کہ وہ خزانہ جماعت کی حالت کو درست کرنے کی کوشش کرے۔کیونکہ اس وقت سلسلہ کے کاموں کے متعلق روپیہ کی اس قدر کمی ہو گئی تھی کہ تین تین ماہ کی تنخواہوں کے بل بغیر ادائیگی کے پڑے تھے۔اور سائر اخراجات کے بعض بل تو سوا سوا سال کے بھی موجود تھے جس کا روپیہ ادا نہیں کیا گیا تھا۔اس تقریر کی طرف جماعت نے ایسی توجہ کی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب صدر انجمن کا بہت سا قرضہ اتر چکا ہے۔اور تنخواہوں کے پچھلے بل ادا ہونے کے بعد اب ہر ماہ کے بل آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں۔اور جو قرضہ باقی ہے وہ بھی برابر ادا ہو رہا ہے۔اور چونکہ مؤمن کا خاصہ ہے کہ وہ ہر دم قدم آگئے ڈالتا ہے۔میں کہہ سکتا ہوں کہ احمدی جماعت اس کوشش میں کمی نہیں آنے دے گی۔بلکہ آگے ہی آگے قدم بڑھائے گی۔انشاء اللہ تعالٰی۔مگر جہاں یہ بات نہایت خوش کن ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کا بہت سا قرضہ اس سال اتر چکا ہے اور بقیہ اتر رہا ہے وہاں میں اس بات پر افسوس کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ جماعت نے انجمن ترقی اسلام کی مالی حالت کے درست کرنے کی طرف اس قدر توجہ نہیں کی جس قدر کرنی مناسب تھی۔میں نے احباب سے جلسہ سالانہ کے موقع پر کہا تھا کہ ان انجمنوں کی مالی حالت کی کمزوری میری صحت اور میرے کام پر بد اثر ڈالتی ہے۔کیونکہ جس شخص کے کانوں میں ہر وقت یہ آواز آوے کہ اس سلسلہ کے کاموں کو چلانے کے لئے جس کا کام خدا تعالیٰ نے اس کے سپرد کیا ہے روپیہ کی سخت تنگی ہے اور ہر ایک کام سخت خطرہ کی حالت میں ہے۔وہ کب تندرست رہ سکتا ہے اور کب وہ ان زیادہ ضروری کاموں کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے جو جماعت کی حقیقی ترقی سے متعلق ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خلفاء پر صرف مالی انتظام کا ہی بوجھ نہیں اور امور بھی ان کی طبیعت پر بوجھ ڈالنے کا باعث ہوتے ہیں۔مگر اس وقت جب کہ روپیہ بہت سے کاموں کا دارومدار ہے جماعت کی روحانی ترقی کے خیال کے بعد یہ بوجھ بھی ایک