انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 584

م جلد ۳ ۵۸۴ ترقی اسلام کے بارہ میں ارشاد بہت بڑا بوجھ ہے۔پس میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کے احباب کو پھر اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ انجمن ترقی اسلام کی مالی حالت کی درستی کی بھی فکر کریں۔میں ان دنوں بیمار ہوں اور مجھے فکر ہے کہ میں اپنی زندگی میں جماعت کی ہر قسم کی حالت کو درست دیکھ لوں۔شملہ آنے سے میری صحت میں ترقی معلوم ہوتی ہے لیکن پھر بھی طبیعت ابھی بہت کمزور ہے۔چنانچہ تین چار دن سے پھر آپ کا دورہ ہے اور اس وقت بھی کہ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں میں تپ محسوس کرتا ہوں۔پس مجھے جلدی ہے کہ کسی طرح احمدی جماعت کے تمام کام میری زندگی میں تکمیل کے درجہ پر پہنچ جائیں اور اس کی طرف میں آپ لوگوں کو خاص طور پر متوجہ کرتا ہوں۔اللہ تعالی کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایک ایسی جماعت کا انتظام سپرد کیا ہے جس کی نسبت اگر میں یہ کہوں کہ وہ میری آواز پر کان نہیں رکھتی تو یہ ایک سخت ناشکری ہو گی۔میری بات کی طرف توجہ کرنا تو ایک چھوٹی سی بات ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ بہت ہیں جو میرے اشارہ پر اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی ہر ایک عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔والحمد لله عَلى ذلِکَ۔اور اس اخلاص بھری جماعت کو مخاطب کرتے وقت میرا دل اس یقین سے پُر ہے کہ وہ فورا اس نقص کو رفع کرنے کی کوشش کرے گی جس کی طرف میں نے ان کو متوجہ کیا ہے۔مگر اس عام تحریک کے علاوہ بعض خاص ضروریات بھی ہیں جن کے لئے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔تبلیغ ولایت کے اخراجات کے لئے فوراً ساڑھے نو ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔یعنی اڑھائی ہزار روپیہ مکان کے لئے دو ہزار روپیہ پہلے قرضہ لے کر دیا گیا ہے۔اس کی ادائیگی کے لئے ایک ہزار روپیہ ایک تیسرے آدمی کے سفر خرچ کے لئے جو وہاں کھانا پکانے اور دوسرے کاموں میں مدد کرنے کے لئے ضروری ہے (کیونکہ وہاں سو روپیہ ماہوار خرچ کرنے پر ملازم مل سکتا ہے۔اور پھر اپنے آدمی جتنا مفید بھی نہیں ہو سکتا) اور چار ہزار روپیہ چھ ماہ کے خرچ کے لئے۔اس ساڑھے نو ہزار روپیہ کے علاوہ دو ہزار روپیہ وفد ماریشس کے لئے اور ایک ہزار روپیه ان وفود کے اخراجات کے لئے جو پچھلے دنوں بمبئی کشمیر اور سرحد پر بھیجے گئے ہیں درکار ہے۔یہ کل رقم ساڑھے بارہ ہزار بنتی ہے اور دو ماہ کے اندر اس کا جمع ہو جانا ضروری ہے۔پچھلے سال جب مفتی صاحب کو ولایت بھیجنے کی تجویز ہوئی تھی تو میں نے اخراجات ولایت مہیا کرنے کے لئے یہ تجویز کی تھی کہ چند مخلص اور ذی استطاعت احباب کو خاص خطوط کے ذریعہ اس بوجھ کو برداشت کرنے کی ترغیب دلائی تھی۔چنانچہ ساٹھ ستر دوستوں نے اوسطاً ایک